فقہ المسیح — Page 329
فقه المسيح 329 سود، انشورنس اور بینکنگ مثلاً اگر دنیا میں سور کی تجارت ہی سب سے زیادہ نفع مند ہو جاوے تو کیا مسلمان اس کی تجارت شروع کر دیں گے۔ہاں اگر ہم یہ دیکھیں کہ اس کو چھوڑ نا اسلام کے لیے ہلاکت کا موجب ہوتا ہے۔تب ہم فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَّلَا عَادٍ (الانعام : 146) کے نیچے لا کر اس کو جائز کہہ دیں گے مگر یہ کوئی ایسا امر نہیں اور یہ ایک خانگی امر اور خود غرضی کا مسئلہ ہے۔ہم فی الحال بڑے بڑے عظیم الشان امور دینی کی طرف متوجہ ہیں۔ہمیں تو لوگوں کے ایمان کا فکر پڑا ہوا ہے۔ایسے ادنیٰ امور کی طرف ہم توجہ نہیں کر سکتے۔اگر ہم بڑے عالیشان دینی مہمات کو چھوڑ کر ابھی سے ایسے ادنی کاموں میں لگ جائیں تو ہماری مثال اس بادشاہ کی ہوگی جو ایک مقام پر ایک محل بنانا چاہتا ہے مگر اس جگہ بڑے شیر اور درندے اور سانپ ہیں اور نیز مکھیاں اور چیونٹیاں ہیں۔پس اگر وہ پہلے درندوں اور سانپوں کی طرف توجہ نہ کرے اور ان کو ہلاکت تک نہ پہنچائے اور سب سے پہلے مکھیوں کے فنا کرنے میں مصروف ہو تو اس کا کیا حال ہوگا۔اس سائل کو لکھنا چاہیے کہ تم پہلے اپنے ایمان کا فکر کرو اور دو چار ماہ کے واسطے یہاں آ کر ٹھہر و تا کہ تمہارے دل و دماغ میں روشنی پیدا ہو اور ایسے خیالات میں نہ پڑو۔کسی قیمت پر سودی قرضہ نہ لے (الحکم 10 مئی 1902 ء صفحہ 11) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے سودی قرضہ کے متعلق سوال کیا۔فرمایا : یہ جائز نہیں ہے۔میں نے عرض کی کہ بعض اوقات مجبوری ہوتی ہے مثلاً ایک کا شتکار ہے اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔سرکاری معاملہ ادا کرنا ہوتا ہے۔سپاہی سر پر کھڑا ہے۔بجز سودخور، کوئی قرض نہیں دیتا۔ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ فرمایا: ” مجبوری تو ہوتی ہے لیکن استغفار ہی کرے اور سودی قرضہ نہ لیوے۔“ (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 199-198