فقہ المسیح — Page 328
فقه المسيح 328 سود، انشورنس اور بینکنگ بیمہ کو توڑ دوں تو بموجب شرائط اس کمپنی کے صرف تیسرے حصہ کا حقدار ہوں یعنی دوصد روپیہ ملے گا اور باقی چار صد روپیہ ضائع جائے گا۔مگر چونکہ میں نے آپ کے ہاتھ پر اس شرط کی بیعت کی ہوئی ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔اس واسطے بعد اس مسئلہ کے معلوم ہو جانے کے میں ایسی حرکت کا مرتکب ہونا نہیں چاہتا جو خدا اور اس کے رسول کے احکام کے برخلاف ہواور آپ حکم اور عدل ہیں، اس واسطے نہایت عجز سے لیتی ہوں کہ جیسا مناسب حکم ہو صادر فرمایا جاوے تا کہ اس کی تعمیل کی جاوے اس کے جواب میں فرمایا : زندگی کا بیمہ جس طرح رائج ہے اور سنا جاتا ہے اس کے جواز کی ہم کوئی صورت بظا ہر نہیں دیکھتے کیونکہ یہ ایک قمار بازی ہے۔اگر چہ وہ بہت سا روپیہ خرچ کر چکے ہیں لیکن اگر وہ جاری رکھیں گے تو یہ روپیہ اُن سے اور بھی زیادہ گناہ کرائے گا۔اُن کو چاہیے کہ آئندہ زندگی، گناہ سے بچنے کے واسطے اس کو ترک کر د یو یں اور جتنا رو پید اب مل سکتا ہے وہ واپس لے لیں۔سیونگ بنگ اور تجارتی کارخانوں کے سود کا حکم ( بدر 9 را پریل 1908 صفحہ 3) ایک شخص نے ایک لمبا خط لکھا کہ سیونگ بنگ کا سود اور دیگر تجارتی کارخانوں کا سود جائز ہے یا نہیں کیونکہ اس کے ناجائز ہونے سے اسلام کے لوگوں کو تجارتی معاملات میں بڑا نقصان ہو رہا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا: یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے اور جب تک کہ اس کےسارے پہلوؤں پر غور نہ کی جائے اور ہر قسم کے ہرج اور فوائد جو اس سے حاصل ہوتے ہیں وہ ہمارے سامنے پیش نہ کیے جاویں ہم اس کے متعلق اپنی رائے دینے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ یہ جائز ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہزاروں طریق روپیہ کمانے کے پیدا کیے ہیں۔مسلمان کو چاہیے کہ اُن کو اختیار کرے اور اس سے پر ہیز رکھے۔ایمان صراط مستقیم سے وابستہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو اس طرح سے ٹال دینا گناہ ہے۔