فقہ المسیح — Page 330
فقه المسيح 330 سود، انشورنس اور بینکنگ وقت مقررہ پر قرضہ واپس نہ کرنے والے سے ہر جانہ وصول کرنا حضرت خلیفہ لمسیح الثانی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک فتوی کی مندرجہ ذیل تشریح کی ہے۔سوال:۔زید نے بکر کو اپنا مال مقررہ قیمت پر فروخت کرنے کے لئے دیا۔زید نے مال فروخت کرنے کے بعد رقم بکر کو ادا نہ کی جس کو کم و بیش ایک سال گزر گیا۔کیا زید اس رقم کے روکنے کی وجہ سے بکر سے ہرجانہ طلب کر سکتا ہے۔اگر کر سکتا ہے تو کیا شریعت نے کوئی شرح مقرر کی ہے۔آریہ دھرم صفحہ ۱ حاشیہ در حاشیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اس مدت تک وہ تجارت کے کام کا روپیہ جو اس کے انتظار پر بند رہے گا اس کا مناسب ہر جانہ اس کو دینا ہو گا۔“ جواب:۔میں نے (حضرت مولانا سید سرورشاہ صاحب۔ناقل ) یہ حوالہ حضرت امیر المومنین (رضی اللہ عنہ ) کے سامنے پیش کیا ہے اور حضور نے اس پر فرمایا ہے کہ تجارتی سود میں اور اس میں فرق باریک ہے۔جو ہر ایک اس بار یک فرق تک نہیں پہنچ سکتا۔اس واسطے جو قاعدہ ہم نے پہلے جاری کیا ہوا ہے وہی ٹھیک ہے کہ قاضی اگر دیکھے کہ مدیون نے دائن کو تکلیف دی تو قاضی اس پر جرمانہ تو کر دے لیکن جرمانہ کی رقم انجمن کو دے تاجر کو نہ دے۔فرمودات مصلح موعود درباره فقہی مسائل صفحه 304،303) سود کی مصیبت سے بچنے کے لئے سود لینا سوال:۔کیا سود لینا جائز ہے۔ہندو ہم سے سود لیتے ہیں۔اگر ہم نہ لیں تو ہمارا سارا مال ہندوؤں کے ہاں چلا جائے گا۔اس سوال کے جواب میں حضرت طریقہ اسیح الثانی فر ماتے ہیں: اس بارے میں ہمارا مسلک دوسرے لوگوں سے مختلف ہے اس وقت جو کچھ میں بیان کروں