فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 611

فقہ المسیح — Page 325

فقه المسيح 325 سود، انشورنس اور بینکنگ غلام نبی صاحب سیٹھی نے جو پہلے راولپنڈی میں تجارت کرتے تھے اور آج کل قادیان میں ہجرت کر آئے ہوئے ہیں۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خط دیا جو حضوڑ نے سیٹھی صاحب کو اپریل 1898ء میں اپنے دست مبارک سے لکھ کر ارسال کیا تھا۔اس خط میں مسئلہ سود کے متعلق حضرت کا ایک اصولی فیصلہ درج ہے اور اس لئے میں اسے ذیل میں نقل کرتا ہوں۔میں امید رکھتا ہوں کہ آپ کی اس نیک نیتی اور خوف الہی پر اللہ تعالیٰ خود کوئی طریق مخلصی پیدا کر دے گا۔اس وقت تک صبر سے استغفار کرنا چاہیے اور سود کے بارے میں میرے نزدیک ایک انتظام احسن ہے اور وہ یہ ہے کہ جس قدر سود کا روپیہ آوے آپ اپنے کام میں اس کو خرچ نہ کریں بلکہ اس کو الگ جمع کرتے جائیں اور جب سود دینا پڑے اسی روپیہ میں سے دے دیں۔اور اگر آپ کے خیال میں کچھ زیادہ روپیہ ہو جائے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں ہے کہ وہ روپیہ کسی ایسے دینی کام میں خرچ ہو جس میں کسی شخص کا ذاتی خرچ نہ ہو۔بلکہ صرف اس سے اشاعت دین ہو۔میں اس سے پہلے یہ فتویٰ اپنی جماعت کے لئے بھی دے چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جوسود حرام فرمایا ہے وہ انسان کی ذاتیات کے لئے ہے۔حرام یہ طریق ہے کہ کوئی انسان سود کے روپیہ سے اپنی اور اپنے عیال کی معیشت چلا دے یا خوراک یا پوشاک یا عمارت میں خرچ کرے یا ایسا ہی کسی دوسرے کو اس نیت سے دے کہ وہ اس میں سے کھاوے یا پہنے لیکن اس طرح پر کسی سود کے روپیہ کا خرچ کرنا ہر گز حرام نہیں ہے کہ وہ بغیر اپنے کسی ذرہ ذاتی نفع کے خدا تعالیٰ کی طرف رد کیا جائے یعنی اشاعت دین پر خرچ کیا جائے۔قرآن شریف سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کا مالک ہے جو چیز اس کی طرف آتی ہے وہ پاک ہو جاتی ہے بجز اس کے کہ ایسے مال نہ ہوں کہ انسانوں کی مرضی کے بغیر لئے گئے ہوں جیسے چوری یار ہر نی یاڈا کہ کہ یہ مال کسی طرح سے بھی خدا کے اور دین کے کاموں میں بھی خرچ کرنے کے لائق نہیں لیکن جو مال رضا مندی سے حاصل کیا گیا ہو وہ خدا تعالیٰ کے دین کی راہ میں خرچ ہوسکتا ہے۔دیکھنا چاہئے کہ ہم