فقہ المسیح — Page 324
فقه المسيح 324 سود، انشورنس اور بینکنگ ہمسایوں کے لیے بالکل حرام ہے۔لیکن اگر یہ روپیہ خالصتاً اشاعت دین کے لیے خرچ ہو تو حرج نہیں ہے۔خصوصاً ایسی حالت میں کہ اسلام بہت کمزور ہو گیا ہے اور پھر اس پر دوسری مصیبت یہ ہے کہ لوگ زکوۃ بھی نہیں دیتے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت دو مصیبتیں واقع ہورہی ہیں اور دو حرمتیں روا رکھی گئی ہیں۔اول یہ کہ زکوۃ جس کے دینے کا حکم تھا وہ دیتے نہیں اور سود جس کے لینے سے منع کیا تھا وہ لیتے ہیں۔یعنی جو خدا تعالیٰ کا حق تھا وہ تو دیا نہیں اور جو اپنا حق نہ تھا اُسے لیا گیا۔جب ایسی حالت ہو رہی ہے اور اسلام خطرناک ضعف میں مبتلا ہے تو میں یہی فتویٰ دیتا ہوں کہ ایسے سودوں کی رقمیں جو بینک سے ملتا ہے یکمشت اشاعت دین میں خرچ کرنی چاہئیں۔میں نے جو فتویٰ دیا ہے وہ عام نہیں ہے ورنہ سود کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں مگر اس ضعف اسلام کے زمانہ میں جبکہ مالی ترقی کے ذریعے پیدا نہیں ہوئے اور مسلمان توجہ نہیں کرتے ایسا روپیہ اسلام کے کام میں لگنا حرام نہیں ہے۔قرآن شریف کے مفہوم کے موافق جو حرمت ہے وہ یہی ہے کہ وہ اپنے نفس کے لیے اگر خرچ ہو تو حرام ہے۔یہ بھی یادرکھو جیسے سودا اپنے لیے درست نہیں کسی اور کو اس کا دینا بھی درست نہیں۔ہاں خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ایسے مال کا دینا درست ہے اور اس کا یہی طریق ہے کہ وہ صرف اشاعت اسلام میں خرچ ہو۔اس کی ایسی مثال ہے جیسے جہاد ہو رہا ہو اور گولی بارود کسی فاسق فاجر کے ہاں ہو۔اس وقت محض اس خیال سے رک جانا کہ یہ گولی بارود مال حرام ہے ٹھیک نہیں۔بلکہ مناسب یہی ہو گا کہ اس کو خرچ کیا جاوے۔اس وقت تلوار کا جہاد تو باقی نہیں رہا اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں ایسی گورنمنٹ دی ہے جس نے ہر ایک قسم کی مذہبی آزادی عطا کی ہے۔اب قلم کا جہاد باقی ہے۔اس لیے اشاعت دین میں ہم اس کو خرچ کر سکتے ہیں۔( الحکم 24 ستمبر 1905 صفحہ 9) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں