فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 611

فقہ المسیح — Page 326

فقه المسيح 326 سود، انشورنس اور بینکنگ لوگوں کو اس وقت مخالفوں کے مقابل پر جو ہمارے دین کے رد میں شائع کرتے ہیں کس قدر روپیہ کی ضرورت ہے۔گویا یہ ایک جنگ ہے جو ہم ان سے کر رہے ہیں۔اس صورت میں اس جنگ کی امداد کے لئے ایسے مال اگر خرچ کئے جائیں تو کچھ مضائقہ نہیں۔یہ فتویٰ ہے جو میں نے دیا ہے۔سود کے اشاعت دین میں خرچ کرنے سے میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی انسان عمدا اپنے تئیں اس کام میں ڈالے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مجبوری سے جیسا کہ آپ کو پیش ہے یا کسی اتفاق سے کوئی شخص سود کا روپیہ کا وارث ہو جائے تو وہ روپیہ اس طرح پر جیسا کہ میں نے بیان ( کیا ہے ) خرچ ہوسکتا ہے اور اس کے ساتھ ثواب کا بھی مستحق ہوگا۔“ (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 402 403) ایک صاحب کا ایک خط حضرت کی خدمت میں پہنچا کہ جب بینکوں کے سود کے متعلق حضور نے اجازت دی ہے کہ موجودہ زمانہ اور اسلام کے حالات کو مدنظر رکھ کر اضطرار کا اعتبار کیا جائے سو اضطرار کا اصول چونکہ وسعت پذیر ہے اس لئے ذاتی ، قومی ، ملکی تجارتی وغیرہ اضطرارات بھی پیدا ہو کر سود کا لین دین جاری ہو سکتا ہے یا نہیں؟ فرمایا: اس طرح سے لوگ حرامخوری کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں کہ جو جی چاہے کرتے پھریں۔ہم نے یہ نہیں کہا کہ بینک کا سود بسبب اضطرار کے کسی انسان کو لینا اور کھانا جائز ہے۔بلکہ اشاعت اسلام میں اور دینی ضروریات میں اس کا خرچ جائز ہونا بتلایا گیا ہے۔وہ بھی اس وقت تک کہ امداد دین کے واسطے روپیہ مل نہیں سکتا اور دین غریب ہو رہا ہے کیونکہ کوئی شے خدا کے واسطے تو حرام نہیں۔باقی رہی اپنی ذاتی اور ملکی اور قومی اور تجارتی ضروریات۔سوان کے واسطے اور ایسی باتوں کے واسطے سود بالکل حرام ہے وہ جواز جو ہم نے بتلایا ہے وہ اس قسم کا ہے کہ مثلاً کسی جاندار کو آگ میں جلانا شرعاً منع ہے۔لیکن ایک مسلمان کے واسطے جائز ہے کہ اس زمانہ میں اگر کہیں