فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 611

فقہ المسیح — Page 323

فقه المسيح 323 سود، انشورنس اور بینکنگ پیشاب بار بار آ رہا ہے دست بھی لگے ہیں۔آخر خدا سے دعا کی۔صبح کو الہام ہوا۔دُعَاءُ كَ مُسْتَجَابٌ اس کے بعد ہی وہ کثرت جاتی رہی اور کمزوری کی جگہ طاقت آگئی۔یہ خدا کی طاقت ہے ایسا خدا عجیب ہے کہ ان نسخوں سے بھی زیادہ قابل قدر ہے جو کیمیا وغیرہ کے ہوتے ہیں مجھے بھی ایک دفعہ خیال آیا کہ یہ تو چھپانے کے قابل ہے پھر سوچا کہ یہ تو بخل ہے ایسی مفید شے کو دنیا پر اظہار کرنا چاہیے کہ مخلوق الہی کو فائدہ حاصل ہو۔یہی فرق اسلام اور دوسرے مذاہب کے خدا میں ہے۔انکا خدا بولتا نہیں۔خدا معلوم یہ بھی کیسا ایمان ہے۔اسلام کا خدا جیسے پہلے تھاو یسے ہی اب ہے۔نہ طاقت کم ہوئی نہ بوڑھا ہوا۔نہ کچھ اور نقص اس میں واقع ہوا۔ویسے خدا پر جس کا ایمان ہو وہ اگر آگ میں بھی پڑا ہو تو اُسے حوصلہ ہوتا ہے۔ابراہیم کو آخر آگ میں ڈالا ہی تھا۔ویسے ہی ہم بھی آگ میں ڈالے گئے۔خون کا مقدمہ بنایا گیا۔اگر اس میں پانچ یا دس سال کی قید ہو جاتی تو سب سلسلہ تباہ ہو جاتا۔سب قوموں نے متفق ہو کر یہ آگ سلگائی تھی۔کیا کم آگ تھی؟ اس وقت سوائے خدا کے اور کون تھا ؟ اور وہی الہام ہوئے جو کہ ابراہیم کو ہوئے تھے آخر میں الہام ہوا ابراء اور تسلی دی کہ سب کچھ میرے ہاتھ میں ہے۔البدر 27 مارچ1903 صفحہ 75) بینکوں کا سودا شاعت اسلام کے لیے خرچ کرنا جائز ہے شیخ نوراحمد صاحب نے بنک کے سود کے متعلق تذکرہ کیا کہ بنگ والے ضرور سود دیتے ہیں پھر اسے کیا کیا جاوے؟ فرمایا: ہمارا یہی مذہب ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ہمارے دل میں ڈالا ہے کہ ایسا روپیہ اشاعت دین کے کام میں خرچ کیا جاوے۔یہ بالکل سچ ہے کہ سود حرام ہے لیکن اپنے نفس کے واسطے۔اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں جو چیز جاتی ہے وہ حرام نہیں رہ سکتی کیونکہ حرمت اشیاء کی انسان کے لیے ہے نہ اللہ تعالیٰ کے واسطے۔پس سود اپنے نفس کے لیے، بیوی بچوں، احباب، رشتہ داروں اور