فقہ المسیح — Page 322
فقه المسيح 322 سود، انشورنس اور بینکنگ تو پھر ؟ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا: خدا تعالیٰ نے اس کی حرمت مومنوں کے واسطے مقرر کی ہے اور مومن وہ ہوتا ہے جو ایمان پر قائم ہو اللہ تعالیٰ اس کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔اسلام میں کروڑ ہا ایسے آدمی گذرے ہیں جنہوں نے نہ سود لیا نہ دیا آخران کے حوائج بھی پورے ہوتے رہے کہ نہ؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ لو نہ دو جو ایسا کرتا ہے وہ گویا خدا کے ساتھ لڑائی کی تیاری کرتا ہے ایمان ہو تو اس کا صلہ خدا بخشا ہے۔ایمان بڑی بابرکت شے ہے اَلَمُ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرة:107) اگر اسے خیال ہو کہ پھر کیا کرے؟ تو کیا خدا کا حکم بھی بیکار ہے؟ اس کی قدرت بہت بڑی ہے۔سود تو کوئی شے ہی نہیں ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا کہ زمین کا پانی نہ پیا کرو تو وہ ہمیشہ بارش کا پانی آسمان سے دیا کرتا اسی طرح ضرورت پر وہ خود ایسی راہ نکال ہی دیتا ہے کہ جس سے اس کی نافرمانی بھی نہ ہو۔جب تک ایمان میں میل کچیل ہوتا ہے تب تک یہ ضعف اور کمزوری ہے۔کوئی گناہ چھوٹ نہیں سکتا جب تک خدا نہ چھڑاوے ورنہ انسان تو ہر ایک گناہ پر یہ عذر پیش کر سکتا ہے کہ ہم چھوڑ نہیں سکتے اگر چھوڑیں تو گزارہ نہیں چلتا۔دکانداروں عطاروں کو دیکھا جاوے کہ پر انا مال سالہا سال تک بیچتے ہیں۔دھوکا دیتے ہیں۔ملازم پیشہ لوگ رشوت خوری کرتے ہیں اور سب یہ عذر کرتے ہیں کہ گزارہ نہیں چلتا۔ان سب کو اگر اکٹھا کر کے نتیجہ نکالا جاوے تو پھر یہ نکلتا ہے کہ خدا کی کتاب پر عمل ہی نہ کرو کیونکہ گزارہ نہیں چلتا حالانکہ مومن کے لیے خدا خود سہولت کر دیتا ہے۔یہ تمام راستبازوں کا مجرب علاج ہے کہ مصیبت اور صعوبت میں خدا خود راہ نکال دیتا ہے۔لوگ خدا کی قدر نہیں کرتے۔جیسے بھروسہ اُن کو حرام کے دروازے پر ہے ویسا خدا پر نہیں ہے۔خدا پر ایمان، یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ اگر قدر ہو تو جی چاہے کہ جیسے اور عجیب نسخہ مخفی رکھنا چاہتے ہیں ویسے ہی اسے بھی مخفی رکھا جاوے۔میں نے کئی دفعہ بیماریوں میں آزمایا ہے کہ