فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxv of 611

فقہ المسیح — Page xxxv

حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب کئے ہوں جو اُن کے خیال میں اس وقت اس روحانی وبائی مرض میں مفید تھے تو وہ ایک وقتی ضرورت تھی اور بوجہ اُن کی نیک نیتی کے اس کو خدا کے حوالے کر دینا مناسب ہے۔66 (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 70،69) بزرگان سلف کے بعض معتقدات سے اختلاف کے باوجود آپ نے اُن کی عزت اور قبولیت کو بہت اہمیت دی اور اُن کے عالی مقام کا بھی تذکرہ کیا۔خاص طور پر یہ شرف حضرت امام ابو حنیفہ کو حاصل ہوا جن پرگزشتہ بارہ تیرہ سو سال سے اُن کے مخالف علماء اہل الرائے ہونے کا الزام لگاتے تھے اور اہل حدیث تو بار بار اس بات کو پیش کرتے تھے کہ امام صاحب نے قیاس سے کام لے کر گویا شریعت میں دخل دیا ہے۔الحق مباحثہ لدھیانہ میں ایک ایسے ہی موقعہ پر حضرت مسیح موعود نے مولوی محمد حسین بٹالوی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ”اے حضرت مولوی صاحب آپ ناراض نہ ہوں آپ صاحبوں کو امام بزرگ ابوحنیفہ سے اگر ایک ذرہ بھی حسن ظن ہوتا تو آپ اس قدر سبکی اور استخفاف کے الفاظ استعمال نہ کرتے آپ کو امام صاحب کی شان معلوم نہیں وہ ایک بحراعظم تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں اسکا نام اہل الرائے رکھنا ایک بھاری خیانت ہے! امام بزرگ حضرت ابوحنیفہ کو علاوہ کمالات علم آثار نبویہ کے استخراج مسائل قرآن میں ید طولیٰ تھا خدا تعالیٰ حضرت مجدد الف ثانی پر رحمت کرے انہوں نے مکتوب صفحہ ۳۰۷ میں فرمایا ہے کہ امام اعظم صاحب کی آنیوالے مسیح کے ساتھ استخراج مسائل قرآن میں ایک روحانی مناسبت ہے۔“ الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 101) حضرت امام ابوحنیفہ کو استخراج مسائل قرآن میں خاص دسترس تھی اس وجہ سے آپ 13