فقہ المسیح — Page xxxvi
حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب بعض احادیث کی تاویل کرتے تھے یا انہیں چھوڑ دیتے تھے۔اس پر آپ کے مخالفین کی طرف سے اعتراض کیا جاتا تھا۔حقیقت میں آپ کے فتاوی قرآن وحدیث کے منافی نہیں تھے۔اس بات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔امام صاحب موصوف اپنی قوت اجتہادی اور اپنے علم اور درایت اور فہم و فراست میں ائمہ ثلاثہ باقیہ سے افضل و اعلیٰ تھے اور اُن کی خداداد قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت عدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدد کہ کو قرآن شریف کے سمجھنے میں ایک خاص دستگاہ تھی اور اُن کی فطرت کو کلام الہی سے ایک خاص مناسبت تھی اور عرفان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکے تھے۔اسی وجہ سے اجتہاد و استنباط میں اُن کے لئے وہ درجہ علیا مسلم تھا جس تک پہنچنے سے دوسرے سب لوگ قاصر تھے۔سبحان اللہ اس زیرک اور ربانی امام نے کیسی ایک آیت کے ایک اشارہ کی عزت اعلیٰ وارفع سمجھ کر بہت سی حدیثوں کو جو اس کے مخالف تھیں رڈی کی طرح سمجھ کر چھوڑ دیا اور جہلا کے طعن کا کچھ اندیشہ نہ کیا۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 385 ) 7 احکام شریعت پر حکمت ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے زور کے ساتھ ان مفاسد کو دور کر دیا جو اس زمانے میں اسلام کے مخالفین کی طرف سے پھیلائے جارہے تھے اور اسلام کی تعلیم پر طرح طرح کے اعتراضات کئے جارہے تھے۔آپ نے اسلام کی مدافعت کا حق ادا کر دیا۔آر۔کی معرکۃ الآراء کتاب کا تعارف تو اس کے نام سے ظاہر ہے۔الْبَرَاهِينُ الْاَحْمَدِيَّةُ عَلَى حَقِيَّةِ كِتَابِ اللهِ الْقُرْآنِ وَالنَّبُوَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ 66 14