فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 611

فقہ المسیح — Page 275

فقه المسيح 275 حیض کے دنوں میں عورتوں سے کیسے تعلقات ہوں سوال: مسلمان حیض کے دنوں میں بھی عورت سے جدا نہیں ہوتے۔نکاح الجواب۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان بہتان طراز لوگوں کا یہ کیسا اعتراض ہے یہ لوگ جھوٹ بولنے کے وقت کیوں خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ (البقرة:223) یعنی حیض کے دنوں میں عورتوں سے کنارہ کرو اور ان کے نزدیک مت جاؤ یعنی صحبت کے ارادہ سے جب تک کہ وہ پاک ہو لیں۔اگر ایسی صفائی سے کنارہ کشی کا بیان وید میں بھی ہو تو کوئی صاحب پیش کریں لیکن ان آیات سے یہ مراد نہیں کہ خاوند کو بغیر ارادہ صحبت کے اپنی عورت کو ہاتھ لگانا بھی حرام ہے یہ تو حماقت اور بیوقوفی ہوگی کہ بات کو اس قدر دور کھینچا جائے کہ تمدن کے ضرورات میں بھی حرج واقع ہو اور عورت کو ایام حیض میں ایک ایسی زہر قاتل کی طرح سمجھا جائے جس کے چھونے سے فی الفور موت نتیجہ ہے۔اگر بغیر ارادہ صحبت عورت کو چھونا حرام ہوتا تو بیچاری عورتیں بڑی مصیبت میں پڑ جاتیں۔بیمار ہوتیں تو کوئی نبض بھی دیکھ نہ سکتا، گرتیں تو کوئی ہاتھ سے اٹھ نہ سکتا اگر کسی درد میں ہاتھ پیر دبانے کی محتاج ہوتیں تو کوئی دبانہ سکتا اگر مرتیں تو کوئی دفن نہ کر سکتا کیونکہ ایسی پلید ہوگئیں کہ اب ہاتھ لگانا ہی حرام ہے سو یہ سب نافہموں کی جہالتیں ہیں اور سچ یہی ہے کہ خاوند کو ایام حیض میں صحبت حرام ہو جاتی ہے لیکن اپنی عورت سے محبت اور آثار محبت حرام نہیں ہوتے۔( آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 48، 49) وٹے سٹے کی شادی اگر مہر دے کر ہو تو جائز ہے حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں:۔اسلام نے اس قسم کی شادی کو نا پسند کیا ہے کہ ایک شخص اپنی لڑکی دوسرے شخص کے