فقہ المسیح — Page 276
فقه المسيح 276 نکاح لڑکے کو اس شرط پر دے کہ اس کے بدلہ میں وہ بھی اپنی لڑکی اس کے لڑکے کو دے۔لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اگر طرفین کے فیصلے الگ الگ اوقات میں ہوئے ہوں اور ایک دوسرے کولڑ کی دینے کی شرط پر نہ ہوئے ہوں تو کوئی حرج نہیں۔الفضل 15 جنوری 1918 صفحہ 4) نکاح متعہ کی ممانعت خدا نے قرآن شریف میں بجز نکاح کے ہمیں اور کوئی ہدایت نہیں دی ، ہاں شیعہ مذہب میں سے ایک فرقہ ہے کہ وہ موقت طور پر نکاح کر لیتے ہیں یعنی فلاں وقت تک نکاح اور پھر طلاق ہوگی اور اس کا نام متعہ رکھتے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کے کلام سے ان کے پاس کوئی سند نہیں بہر حال وہ تو ایک نکاح ہے جس کی طلاق کا زمانہ معلوم ہے اور نیوگ کو طلاق کے مسئلہ سے کچھ تعلق نہیں۔(نسیم دعوت روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 443،442) ایسا نکاح بھی جس کا وقت طلاق ٹھیرایا جائے ہمارے مذہب میں منع ہے۔قرآن شریف صاف اس کی ممانعت فرماتا ہے۔عرب کے لوگوں میں اسلام سے پہلے ایک وقت تک ایسے نکاح ہوتے تھے قرآن شریف نے منع کر دیا اور قرآن شریف کے اترنے سے وہ حرام ہو گئے۔صرف بعض شیعوں کے فرقے اس کے پابند ہیں مگر وہ جاہلیت کی رسم میں گرفتار ہیں اور کسی دانشمند کے لئے جائز نہیں کہ اپنی غلطی کی پردہ پوشی کے لئے کسی دوسرے کی غلطی کا حوالہ دیں۔اسلام میں متعہ کا کوئی حکم نہیں سناتن دھرم۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 470) متعہ صرف اس نکاح کا نام ہے جو ایک خاص عرصہ تک محدود کر دیا گیا ہو پھر ماسوا اس کے متعہ اوائل اسلام میں یعنی اس وقت میں جبکہ مسلمان بہت تھوڑے تھے صرف تین دن کے لئے جائز ہوا تھا اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ وہ جواز اس قسم کا تھا جیسا کہ تین دن کے بھو کے کے لئے مردار کھانا نہایت بے قراری کی حالت میں جائز ہو جاتا ہے اور پھر