فقہ المسیح — Page 274
فقه المسيح 274 نکاح صحیحہ کی رو سے حلالہ قطعی حرام ہے اور مرتکب اس کا زانی کی طرح مستوجب سزا ہے۔نکاح خواں کو تحفہ دینا آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 67،66) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ میری شادی سے پہلے حضرت صاحب کو معلوم ہوا تھا کہ آپ کی دوسری شادی دتی میں ہوگی۔چنانچہ آپ نے مولوی محمد حسین بٹالوی کے پاس اس کا ذکر کیا تو چونکہ اس وقت اس کے پاس تمام اہل حدیث لڑکیوں کی فہرست رہتی تھی اور میر صاحب بھی اہلِ حدیث تھے اور اس سے بہت میل ملاقات رکھتے تھے۔اس لئے اس نے حضرت صاحب کے پاس میر صاحب کا نام لیا۔آپ نے میر صاحب کو لکھا۔شروع میں میر صاحب نے اس تجویز کو بوجہ تفاوت عمر نا پسند کیا مگر آخر رضامند ہو گئے اور پھر حضرت صاحب مجھے بیاہنے دتی گئے۔آپ کے ساتھ شیخ حامد علی اور لالہ ملا وامل بھی تھے۔نکاح مولوی نذیرحسین نے پڑھا تھا۔یہ 27 رمحرم 1302ھ بروز پیر کی بات ہے۔اس وقت میری عمر اٹھارہ سال کی تھی۔حضرت صاحب نے نکاح کے بعد مولوی نذیر حسین کو پانچ روپے اور ایک مصلی نذر دیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت حضرت مسیح موعود کی عمر پچاس سال کے قریب ہوگی۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تمہارے تایا میرے نکاح سے ڈیڑھ دو سال پہلے فوت ہو چکے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ تایا صاحب 1883ء میں فوت ہوئے تھے جو کہ تصنیف براہین کا آخری زمانہ تھا اور والدہ صاحبہ کی شادی نومبر 1884ء میں ہوئی تھی اور مجھے والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا ہے کہ پہلے شادی کا دن اتوار مقرر ہوا تھا مگر حضرت صاحب نے کہہ کر پیر کر وا دیا تھا۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 51)