فقہ المسیح — Page 199
فقه المسيح 199 روزہ اور رمضان اس پر مولوی نور الدین صاحب نے فرمایا کہ یوں بھی تو انسان کو مہینے میں کچھ روزے رکھنے چاہئیں۔ہم اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ ایک موقع پر حضرت اقدس نے بھی فرمایا تھا کہ سفر میں تکالیف اٹھا کر جو انسان روزہ رکھتا ہے تو گویا اپنے زور بازو سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتا ہے۔اس کو اطاعت امر سے خوش نہیں کرنا چاہتا۔یہ غلطی ہے۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت امر اور نہی میں سچا ایمان ہے۔مسافر اور مریض روزہ نہ رکھیں ا حکم 31 جنوری 1899 صفحہ 7) حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام یہ معلوم کر کے کہ لاہور سے شیخ محمد چٹو آئے ہیں اور احباب بھی آئے ہیں۔محض اپنے خلق عظیم کی بناء پر باہر نکلے غرض یہ تھی کہ باہر سیر کو نکلیں گے۔احباب سے ملاقات کی تقریب ہوگی۔چونکہ پہلے سے لوگوں کو معلوم ہو گیا تھا کہ حضرت اقدس باہر تشریف لائیں گے اس لئے اکثر احباب چھوٹی مسجد میں موجود تھے۔جب حضرت اقدس اپنے دروازے سے باہر آئے تو معمول کے موافق خدام پروانہ وار آپ کی طرف دوڑے۔آپ نے شیخ صاحب کی طرف دیکھ کر بعد سلام مسنون فرمایا: حضرت اقدس۔آپ اچھی طرح سے ہیں؟ آپ تو ہمارے پرانے ملنے والوں میں سے ہیں۔بابا چٹو۔شکر ہے۔حضرت اقدس:۔( حکیم محمد حسین قریشی کو مخاطب کر کے ) یہ آپ کا فرض ہے کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ان کے کھانے ٹھہرنے کا پورا انتظام کر دو۔جس چیز کی ضرورت ہو مجھ سے کہو اور میاں نجم الدین کو تاکید کر دو کہ ان کے کھانے کے لئے جو مناسب ہو اور پسند کریں وہ تیار