فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 611

فقہ المسیح — Page 198

فقه المسيح 198 روزہ اور رمضان سحری کے وقت احتیاط کی ایک مثال حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حافظ نورمحمد صاحب فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک دفعہ ماہ رمضان میں سحری کے وقت کسی شخص نے اصل وقت سے پہلے اذان دے دی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں تشریف لے آئے اور فرمایا کہ میں نے دودھ کا گلاس منہ کے قریب کیا ہی تھا کہ اذان کی آواز آئی۔اس لئے وہ گلاس میں نے وہیں رکھ دیا۔کسی شخص نے عرض کی۔کہ حضور ا بھی تو کھانے پینے کا وقت ہے۔آپ نے فرمایا کہ ہمارا دل نہیں چاہتا کہ بعد اذان کچھ کھایا جائے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ روایت اگر درست ہے تو حضور نے اس وقت اپنی ذات کے لئے یہ احتیاط برتی ہوگی۔ورنہ حضور کا طریق یہی تھا کہ وقت کا شمار اذان سے نہیں بلکہ سحری کے نمودار ہونے سے فرماتے تھے۔اور اس میں بھی اس پہلو کو غلبہ دیتے تھے کہ فجر واضح طور پر ظاہر ہو جاوے۔جیسا کہ قرآنی آیت کا منشاء ہے مگر بزرگوں کا قول ہے کہ فتویٰ اور ہے اور تقویٰ اور۔سفر میں روزہ ، حکم ہے اختیار نہیں (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 520) آپ سے دریافت کیا گیا کہ سفر کے لئے روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ: قرآن کریم سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْعَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ (البقرة : 185) یعنی مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔اس میں امر ہے۔یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ جس کا اختیار ہو رکھ لے جس کا اختیار ہو نہ رکھے۔میرے خیال میں مسافر کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے اور چونکہ عام طور پر اکثر لوگ رکھ لیتے ہیں اس لئے اگر کوئی تعامل سمجھ کر رکھ لے تو کوئی حرج نہیں مگر عِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرُ کا پھر بھی لحاظ رکھنا چاہیے۔