فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 611

فقہ المسیح — Page 200

فقه المسيح 200 روزہ اور رمضان حکیم محمد حسین :۔بہت اچھا حضور۔انشاء اللہ کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔حضرت اقدس: (بابا چٹو کو خطاب کر کے ) آپ تو مسافر ہیں۔روزہ تو نہیں رکھا ہوگا ؟ بابا چٹو۔نہیں مجھے تو روزہ ہے میں نے رکھ لیا ہے۔حضرت اقدس: اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے۔خدا تعالیٰ نے مسافر اور بیمار کو دوسرے وقت رکھنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس لئے اس حکم پر بھی تو عمل رکھنا چاہیے۔میں نے پڑھا ہے کہ اکثر اکابر اس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی حالت سفر یا بیماری میں روزہ رکھتا ہے تو یہ معصیت ہے۔کیوں کہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے نہ اپنی مرضی اور اللہ تعالیٰ کی رضا فرمانبرداری میں ہے جو حکم وہ دے اس کی اطاعت کی جاوے اور اپنی طرف سے اس پر حاشیہ نہ چڑھایا جاوے۔اس نے تو یہی حکم دیا ہے مَنْ كَانَ مِنْكُمُ مَّرِيضًا أَوْ عَلى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرُ (البقره: 185) اس میں کوئی قید اور نہیں لگائی کہ ایسا سفر ہو یا ایسی بیماری ہو۔میں سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا اور ایسا ہی بیماری کی حالت میں۔چنانچہ آج بھی میری طبیعت اچھی نہیں اور میں نے روزہ نہیں رکھا۔چلنے پھرنے سے بیماری میں کچھ کمی ہوتی ہے اس لئے باہر جاؤں گا۔کیا آپ بھی چلیں گے۔با با چٹو : نہیں میں تو نہیں جاسکتا۔آپ ہو آئیں۔یہ حکم تو بے شک ہے مگر سفر میں کوئی تکلیف نہیں پھر کیوں روزہ نہ رکھا جاوے۔حضرت اقدس:۔یہ تو آپ کی اپنی رائے ہے۔قرآن شریف نے تو تکلیف یا عدم تکلیف کا کوئی ذکر نہیں فرمایا اب آپ بہت بوڑھے ہو گئے ہیں۔زندگی کا اعتبار کچھ نہیں۔انسان کو وہ راہ اختیار کرنی چاہئے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جاوے اور صراط مستقیم مل جاوے۔بابا چٹو :۔میں تو اسی لئے آیا ہوں کہ آپ سے کچھ فائدہ اٹھاؤں۔اگر یہی راہ کچی ہے تو ایسانہ ہو کہ ہم غفلت ہی میں مر جاویں۔