فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 611

فقہ المسیح — Page 184

فقه المسيح 184 نماز جنازہ اور تدفین پہلے علماء میں اختلاف ہے۔۔۔۔کلام اور کلام اللہ کا ثواب ہمارے نز دیک مُردوں کو نہیں پہنچتا۔قرآن شریف عمل کرنے کے واسطے آیا ہے نہ کہ طوطے کی طرح پڑھنا۔۔۔۔ثواب پہنچانے کے واسطے اگر یہ ہوتا بھی تو قرآن شریف میں ذکر ہوتا۔دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن پر یہ قرآن شریف نازل ہوا ہے وہ اس کے اَوَّلُ الْمُسْتَحِقِین تھے۔آپ کی نسبت اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِین تو آ گیا ہے اور دیکھو قرآن شریف میں آیا ہے إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب : 57) یعنی اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، ایمان والو تم بھی درود بھیجو اور سلام بھیجو۔درود کے معنی دعا ہی کے ہیں اور سلام کے معنی دعا ہی کے ہیں۔دعا ہی آئی ہے۔یہ نہیں آیا کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر قرآن پڑھ پڑھ کر ثواب پہنچاتے ہیں اے ایمان والو تم بھی قرآن پڑھ پڑھ کر نبی کی روح کو سلام پہنچایا کرو۔۔۔۔قرآن کا ثواب نہیں پہنچتا، دعا کرنی چاہئے اور دعا ہی حدیثوں میں آئی ہے۔چنانچہ السَّلَامُ عَلَيْكُمُ يَا اَهْلَ الْقُبُورِ الخ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے درود شریف اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ الخ یہ عمل کرنے کے واسطے ہے تا کہ اس پر عمل کر کے خدا تک انسان پہنچ جاوے اور خدا سے پختہ پیوند و تعلق ہو جاوے اور منازل سلوک طے ہو جاویں وغیرہ وغیرہ۔ہاں صدقات و الحکم مورخہ 14 تا 21 مئی 1919 صفحہ 8) خیرات کا ثواب پہنچتا ہے۔جس کے ہاں ماتم ہو اُس کے ساتھ ہمدردی حضرت کی خدمت میں سوال پیش ہوا کہ کیا یہ جائز ہے کہ جب کا رقضا کسی بھائی کے گھر میں ماتم ہو جائے تو دوسرے دوست اپنے گھر میں اس کا کھانا تیار کریں۔فرمایا نہ صرف جائز بلکہ برادرانہ ہمدردی کے راہ سے یہ ضروری ہے کہ ایسا کیا جاوے۔“ (بدر 11 جولائی 1907 ، صفحہ 3)