فقہ المسیح — Page 183
فقه المسيح 183 نماز جنازہ اور تدفین کھانے کے واسطے کوئی خاص تاریخ مقرر کرے اور ایسا کھانا کھلانے کو اپنے لیے قاضی الحاجات خیال کرے تو یہ ایک بت ہے اور ایسے کھانے کا لینا دینا سب حرام ہے اور شرک میں داخل ہے۔پھر تاریخ کے تعین میں بھی نیت کا دیکھنا ہی ضروری ہے۔اگر کوئی شخص ملازم ہے اور اُسے مثلاً جمعہ کے دن ہی رخصت مل سکتی ہے تو ہر ج نہیں کہ وہ اپنے ایسے کاموں کے واسطے جمعہ کا دن مقرر کرے۔غرض جب تک کوئی ایسا فعل نہ ہو جس میں شرک پایا جائے صرف کسی کو ثواب پہنچانے کی خاطر طعام کھلانا جائز ہے۔(بدر 8 اگست 1907 ، صفحہ 5) میت کی طرف سے صدقہ خیرات کرنا اور قرآن شریف کا پڑھنا سوال۔کیا میت کو صدقہ خیرات اور قرآن شریف کا پڑھنا پہنچ سکتا ہے؟ جواب۔میت کو صدقہ خیرات جو اس کی خاطر دیا جاوے پہنچ جاتا ہے لیکن قرآن شریف کا پڑھ کر پہنچانا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے ثابت نہیں ہے۔اس کی بجائے دعا ہے جو میت کے حق میں کرنی چاہئے۔میت کے حق میں صدقہ خیرات اور دعا کا کرنا ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کی سنت سے ثابت ہے لیکن صدقہ بھی وہ بہتر ہے جو انسان اپنے ہاتھ سے دے جائے کیونکہ اس کے ذریعہ سے انسان اپنے ایمان پر مہر لگا تا ہے۔( بدر 19 جنوری 1906 صفحہ 6) حضرت پیر سراج الحق نعمانی صاحب ”پیارے احمد کی پیاری پیاری باتیں“ کے عنوان کے تحت تحریر فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ صبح کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں حسب دستور حضرت اقدس علیہ السلام تشریف رکھتے تھے۔ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ حضرت یہ لوگ جو قرآن شریف پڑھ کر مردوں کی روح کو ثواب پہنچاتے ہیں، اس کا ثواب پہنچتا ہے یا نہیں ؟ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا: