فقہ المسیح — Page 185
فقه المسيح 185 نماز جنازہ اور تدفین کسی احمدی کا طاعون سے مرنا فرمایا: مخالفین کا یہ اعتراض کہ بعض ہماری جماعت کے آدمی طاعون سے کیوں مرتے ہیں بالکل نا جائز ہے۔ہم نے کبھی کوئی ایسی پیشگوئی نہیں کی کہ ہمارے ہاتھ پر بیعت کرنے والا کوئی شخص کبھی طاعون میں گرفتار نہ ہوگا۔ہاں ہم یہ کہتے ہیں کہ اول طبقہ کے لوگ اس قسم کی بیماری میں گرفتار ہو کر نہیں مرتے۔کوئی نبی ، صدیق ، ولی کبھی طاعون سے ہلاک نہیں ہوا۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی طاعون ہوئی تھی۔مگر کیا حضرت عمر پر بھی اس کا کوئی اثر ہوا تھا ؟ عظیم الشان صحابہ میں سے کوئی طاعون میں گرفتار نہیں ہوا۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر گزرے ہیں۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی طاعون سے مرا ہے؟ ہاں اس میں شک نہیں کہ ایسی بیماری کے وقت بعض ادنی طبقہ کے مومنین (طاعون۔ناقل ) میں گرفتار ہوتے ہیں مگر وہ شہید ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی کمزوریوں اور گناہوں کو اس طرح سے غفر کرتا ہے جیسا کہ ان جہادوں میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ساتھ کئے۔اگر چہ پہلے سے پیشگوئی تھی کہ ان جہادوں میں کفار جہنم میں گرائے جائیں گے۔تاہم بعض مسلمان بھی قتل کئے گئے مگر اعلیٰ طبقہ کے صحابہ مثلاً حضرت ابوبکر حضرت عمرؓ جیسوں میں سے کوئی شہید نہیں ہوا، نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے جنگ میں شہادت میں اعلیٰ درجہ کے لوگ شامل نہیں ہوتے اسی طرح طاعون میں بھی اگر ہماری جماعت کا کوئی آدمی گرفتار ہو جائے تو یہ اس کے واسطے شہادت ہے اور خدا تعالیٰ اس کا اس کو اجر دے گا۔(بدر 16 مئی 1907 صفحہ 3) احمدی شہید کا جنازہ فرشتے پڑھتے ہیں ذکر تھا کہ بعض جگہ چھوٹے گاؤں میں ایک ہی احمدی گھر ہے اور مخالف ایسے متعصب ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی احمدی مرجائے گا تو ہم جنازہ بھی نہ پڑھیں گے۔حضرت نے فرمایا کہ