فقہ المسیح — Page 182
فقه المسيح 182 نماز جنازہ اور تدفین کیا فاتحہ خوانی جائز ہے سوال پیش ہوا کہ کسی کے مرنے کے بعد چند روز لوگ ایک جگہ جمع رہتے اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔فاتحہ خوانی ایک دعائے مغفرت ہے پس اس میں کیا مضائقہ ہے؟ فرمایا: ہم تو دیکھتے ہیں وہاں سوائے غیبت اور بے ہودہ بکواس کے اور کچھ نہیں ہوتا۔پھر یہ سوال ہے کہ آیا نبی کریم یا صحابہ کرام و ائمہ عظام میں سے کسی نے یوں کیا ؟ جب نہیں کیا تو کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ بدعات کا دروازہ کھولنے کی؟ ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ اس رسم کی کچھ ضرورت نہیں، ناجائز ہے۔جو جنازہ میں شامل نہ ہوسکیں وہ اپنے طور سے دعا کریں یا جنازہ غائب پڑھ دیں۔“ کھانے کا ثواب میت کو پہنچتا ہے (بدر 9 مئی 1907 ، صفحہ 5) ایک شخص کا تحریری سوال پیش ہوا کہ محرم کے دنوں ، اِمامین کی روح کو ثواب دینے کے واسطے روٹیاں وغیرہ دینا جائز ہے یا نہیں۔فرمایا: عام طور پر یہ بات ہے کہ طعام کا ثواب میت کو پہنچتا ہے لیکن اس کے ساتھ شرک کی رسومات نہیں چاہئیں۔رافضیوں کی طرح رسومات کا کرنا نا جائز ہے۔“ (الحکم 17 مئی 1901 صفحہ 12 ) ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ اگر کوئی شخص حضرت سید عبدالقادر کی روح کو ثواب پہنچانے کی خاطر کھانا پکا کر کھلا دے تو کیا یہ جائز ہے؟ حضرت نے فرمایا: طعام کا ثواب مردوں کو پہنچتا ہے۔گذشتہ بزرگوں کو ثواب پہنچانے کی خاطر اگر طعام پکا کر کھلایا جائے تو یہ جائز ہے لیکن ہر ایک امرنیت پر موقوف ہے۔اگر کوئی شخص اس طرح کے