فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 611

فقہ المسیح — Page 181

فقه المسيح 181 قطب الدین، معین الدین رحمۃ اللہ علیہم۔یہ سب صلحاء تھے۔قبروں کی حفاظت اور درستگی کروانا نماز جنازہ اور تدفین (الحکم 17 مئی 1901 ، صفحہ 12 ) حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بعض قبروں کی درستگی کے لئے ایک خط لکھا جس میں آپ نے لکھا: مقبرہ بہشتی میں قبروں کی بری حالت ہے ایک تو قبروں میں نالیوں کی وجہ سے سیلاب ویسے ہی رہتا ہے اور یہ نالیاں درختوں کے لئے ضروری ہیں پھر اس پر یہ زیادہ ہے۔پانی جو آیا کرتا ہے اس کی سطح سے یہ قبریں کوئی دوفٹ نیچی ہیں۔اب معمولی آب پاشی ہے اور ان بارشوں سے اکثر قبریں دب جاتی ہیں۔پہلے صاحب نور اور غوثاں کی قبریں دب گئی تھیں ان کو میں (نے) درست کرا دیا تھا۔اب پھر یہ قبریں دب گئی ہیں اور یہ پانی صاف نظر آتا ہے کہ نالیوں کے ذریعہ گیا ہے۔پس اس کے متعلق کوئی ایسی تجویز تو میر صاحب فرما ئیں گے کہ جس سے روز کے قبروں (کے) دینے کا اندیشہ جاتا رہے مگر میرا مطلب اس وقت اس عریضہ سے یہ ہے کہ ابھی تو معمولی بارش سے یہ قبریں دبی ہیں پھر معلوم نہیں کوئی رو آگیا تو کیا حالت ہوگی۔اس لئے نہایت ادب سے عرض ہے کہ اگر حضور حکم دیں تو میں اپنے گھر کے لوگوں کی قبر کو پختہ کر دوں اور ایک ( دو ) دوسری قبریں بھی یا ( جیسا) حضور حکم دیں ویسا کیا جائے۔اس کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا : ”میرے نزدیک اندیشہ کی وجہ سے کہ تا سیلاب کے صدمہ کی وجہ سے نقصان ( نہ ہو ) پختہ کرنے میں کچھ نقصان نہیں معلوم ہوتا کیونکہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّات باقی رہے مخالف لوگوں کے اعتراضات تو وہ تو کسی طرح کم نہیں ہو سکتے۔“ (مکتوبات احمد جلد دوم صفحه 310)