فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 611

فقہ المسیح — Page 172

فقه المسيح 172 نماز جنازہ اور تدفین سورۃ یسین کی سنت پر عمل کرنا نماز جنازہ اور تدفین حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ بشیر اول کی پیدائش کے وقت میں قادیان میں تھا۔قریباً آدھی رات کے وقت حضرت مسیح موعود مسجد میں تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا میاں عبد اللہ اس وقت ہمارے گھر میں دردزہ کی بہت تکلیف ہے۔آپ یہاں یسین پڑھیں اور میں اندر جا کر پڑھتا ہوں اور فرمایا کہ ین کا پڑھنا بیمار کی تکلیف کو کم کرتا ہے۔چنانچہ نزع کی حالت میں بھی اسی لئے بیبین پڑھی جاتی ہے کہ مرنے والے کو تکلیف نہ ہو اور لیبین کے ختم ہونے سے پہلے تکلیف دور ہو جاتی ہے۔اس کے بعد حضور اندر تشریف لے گئے اور میں یسین پڑھنے لگ گیا تھوڑی دیر کے بعد جب میں نے ابھی بین ختم نہیں کی تھی۔آپ مسکراتے ہوئے پھر مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا ہمارے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے۔اس کے بعد حضرت صاحب اندر تشریف لے گئے اور میں خوشی کے جوش میں مسجد کے اوپر چڑھ کر بلند آواز سے مبارک باد مبارک باد کہنے لگ گیا۔وفات کے متعلق عوام کے بعض غلط تصورات فرمایا: (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 66) جمعہ کے دن مرنا، مرتے وقت ہوش کا قائم رہنا یا چہرہ کا رنگ اچھا ہونا۔ان علامات کو ہم قاعدہ کلیہ کے طور سے ایمان کا نشان نہیں کہہ سکتے کیونکہ کئی دہر یہ بھی اس دن مرتے ہیں۔ان کا ہوش قائم اور چہرہ سفید رہتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ بعض امراض ہی ایسے ہیں مثلاً دق وسل کہ ان کے مریضوں کا اخیر تک ہوش قائم رہتا ہے بلکہ طاعون کی بعض قسمیں بھی ایسی ہی