فقہ المسیح — Page 171
فقه المسيح 171 ماجد مسجد کا ایک حصہ مکان میں ملانا ایک شخص نے سوال لکھ کر بھیجا تھا کہ میرے دادا نے مکان کے ایک حصہ ہی کو مسجد بنایا تھا اور اب اس کی ضرورت نہیں رہی تو کیا اس کو مکان میں ملا لیا جاوے؟ فرمایا ہاں ، ملا لیا جاوے۔“ ایک مسجد کے لئے چندہ کی درخواست (الحکم 17 /اکتوبر 1902ءصفحہ 11) کہیں سے خط آیا کہ ہم ایک مسجد بنانا چاہتے ہیں اور تبر گا آپ سے بھی چندہ چاہتے ہیں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا : ہم تو دے سکتے ہیں اور یہ کچھ بڑی بات نہیں مگر جبکہ خود ہمارے ہاں بڑے بڑے اہم اور ضروری سلسلے خرچ کے موجود ہیں جن کے مقابل میں اس قسم کے خرچوں میں شامل ہونا اسراف معلوم ہوتا ہے تو ہم کس طرح سے شامل ہوں۔یہاں جو مسجد خدا بنا رہا ہے اور وہی مسجد اقصٰی ہے وہ سب سے مقدم ہے۔اب لوگوں کو چاہئے کہ اس کے واسطے روپیہ بھیج کر ثواب میں شامل ہوں۔ہمارا دوست وہ ہے جو ہماری بات کو مانے نہ وہ کہ جو اپنی بات کو مقدم رکھے۔حضرت امام ابوحنیفہ کے پاس ایک شخص آیا کہ ہم ایک مسجد بنانے لگے ہیں۔آپ بھی اس میں کچھ چندہ دیں۔انہوں نے عذر کیا کہ میں اس میں کچھ نہیں دے سکتا۔حالانکہ وہ چاہتے تو بہت کچھ دیتے۔اس شخص نے کہا کہ ہم آپ سے بہت نہیں مانگتے صرف تبر گا کچھ دے دیجئے۔آخر انہوں نے ایک دونی کے قریب سکہ دیا۔شام کے وقت وہ شخص دونی لے کر واپس آیا اور کہنے لگا کہ حضرت! یہ تو کھوٹی نکلی ہے۔وہ بہت ہی خوش ہوئے اور فرمایا خوب ہوا۔دراصل میرا جی نہیں چاہتا تھا کہ میں کچھ دوں۔مسجدیں بہت ہیں اور مجھے اس میں اسراف معلوم ہوتا ہے۔(الحکم 24 مئی 1901 ء صفحہ 9)