فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 611

فقہ المسیح — Page 173

فقه المسيح 173 نماز جنازہ اور تدفین ہیں۔ہم نے بعض دفعہ دیکھا کہ مریضوں کو کلمہ پڑھایا گیا اور یسین بھی سنائی۔بعد ازاں وہ بیچ گیا اور پھر وہی برے کام شروع کر دیئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صدق دل سے ایمان نہیں لایا۔اگر بچی تو بہ کرتا تو کبھی ایسا کام نہ کرتا اصل میں اس وقت کا کلمہ پڑھنا ایمان لانا نہیں۔یہ تو خوف کا ایمان ہے جو مقبول نہیں۔( بدر 16 جنوری 1908 صفحہ 3) غسل میت۔بیری کے چنوں کا استعمال حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت میں لاہور میں تھا اور خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں رہا کرتا تھا۔جب آپ فوت ہوئے تو میں اور ایک اور احمدی نوجوان حضرت صاحب کے غسل دینے کے لئے بیری کے پتے لینے گئے۔مجھے یہ یاد نہیں کہ کسی بزرگ نے پتے لانے کے لئے کہا تھا۔میں روتا جارہا تھا اور اسلامیہ کالج کے پشت پر کچھ بیریاں تھیں وہاں سے پتے تو ڑ کر لایا تھا۔گرم پانی میں ان پتوں کو کھولا کر اس پانی سے حضور کو غسل دیا گیا تھا۔سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 749) سب کا جنازہ پڑھ دیا قاضی سید امیر حسین صاحب کا ایک چھوٹا بچہ فوت ہونے پر جنازے کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی تشریف لے گئے اور خود ہی جنازہ پڑھایا۔عموما جنازے کی نمازیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اگر موجود ہوتے تو خود ہی امامت کرتے۔اس وقت نماز جنازہ میں شامل ہونے والے دس پندرہ آدمی ہی تھے۔بعد سلام کسی نے عرض کی کہ حضور میرے لئے بھی دعا کریں۔فرمایا : میں نے تو سب کا ہی جنازہ پڑھ دیا ہے۔مراد یہ تھی کہ جتنے لوگ نماز جنازہ میں شامل ہوئے تھے ، اُن سب کے لئے نماز جنازہ کے اندر حضرت صاحب نے دعائیں کر دی تھیں۔( ذکرِ حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 161 -162)