فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 611

فقہ المسیح — Page 161

فقه المسيح 161 نماز جمعہ اور عید حضرت مفتی محمد صادق صاحب روایت کرتے ہیں کہ شروع زمانہ میں جبکہ احمدیوں کی تعداد بہت کم تھی۔1893 ء یا اس کے قریب کا واقعہ ہے ایک غریب احمدی کسی گاؤں کی مسجد میں بطور درویش کے رہا کرتا تھا اور کبھی کبھی قادیان آتا تھا۔اُس نے عرض کی کہ جمعہ کے دن لوگ دو رکعت نماز جمعہ پڑھتے ہیں اور اس کے علاوہ چار رکعت نماز ظہر بھی پڑھتے ہیں۔اس کا نام احتیاطی رکھتے ہیں۔اس کا کیا حکم ہے۔فرمایا: ”نماز جمعہ کے بعد ظہر پڑھنے کی ضرورت نہیں۔جو لوگ محبہ میں ہیں اُن کا جمعہ اور ظہر اور ہر دوشبہ میں گئے ، نہ یہ ہوا نہ وہ ہوا۔احتیاطی ایک فضول بات ہے مگر تم غریب اور کمزور آدمی ہو تم اس نیت کی احتیاطی پڑھ لیا کرو کہ کوئی شخص ناحق ناراض ہو کر تمہیں مارنے نہ لگ ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 41،40) جائے۔“ جمعہ دو جگہوں پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ اوائل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود ہی اذان کہا کرتے تھے اور خود ہی نماز میں امام ہوا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعد میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب امام نماز مقرر ہوئے اور سنا گیا ہے کہ حضرت صاحب نے دراصل حضرت مولوی نورالدین صاحب کو امام مقرر کیا تھا لیکن مولوی صاحب نے مولوی عبدالکریم صاحب کو کروا دیا۔چنانچہ اپنی وفات تک جو 1905ء میں ہوئی مولوی عبدالکریم صاحب ہی امام رہے۔حضرت صاحب مولوی عبد الکریم صاحب کے ساتھ دائیں طرف کھڑے ہوا کرتے تھے اور باقی مقتدی پیچھے ہوتے تھے۔مولوی عبد الکریم صاحب کی غیر حاضری میں نیز ان کی وفات کے بعد مولوی نورالدین صاحب امام ہوتے تھے۔جمعہ کے متعلق یہ طریق