فقہ المسیح — Page 160
فقه المسيح 160 نماز جمعہ اور عید قرآن شریف کے حکم سے جمعہ کی نما ز سب مسلمانوں پر فرض ہے جبکہ جمعہ کی نماز پڑھ لی تو حکم ہے کہ جاؤ اب اپنے کاروبار کرو۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ انگریزوں کی سلطنت میں جمعہ کی نماز اور خطبہ نہیں ہوسکتا کیونکہ بادشاہ مسلمان نہیں ہے تعجب ہے کہ خود بڑے امن کے ساتھ خطبہ اور نماز جمعہ پڑھتے بھی ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ نہیں ہوسکتا پھر کہتے ہیں کہ احتمال ہے کہ جمعہ ہوا یا نہیں۔اس واسطے ظہر کی نماز بھی پڑھتے ہیں اور اس کا نام احتیاطی رکھا ہے۔ایسے لوگ ایک شک میں گرفتار ہیں۔ان کا جمعہ بھی شک میں گیا اور ظہر بھی شک میں گئی۔نہ یہ حاصل ہوا اور نہ وہ۔اصل بات یہ ہے کہ نماز جمعہ پڑھو اور احتیاطی کی کوئی ( بدر 6 جون 1907 صفحہ 8) ضرورت نہیں۔اہل اسلام میں سے بعض ایسے بھولے بھالے بھی ہیں کہ جمعہ کے دن ایک تو جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں پھر اس کے بعد اس احتیاط سے کہ شاید جمعہ ادا نہ ہوا ہو۔ظہر کی نماز بھی پوری ادا کرتے ہیں اس کا نام انہوں نے احتیاطی رکھا ہے۔اس کے ذکر پر حضرت اقدس نے فرمایا: یہ غلطی ہے اور اس طرح سے کوئی نماز بھی نہیں ہوتی کیونکہ نیت میں اس امر کا یقین ہونا ضروری ہے کہ میں فلاں نماز ادا کرتا ہوں اور جب نیت میں شک ہوا تو پھر وہ نماز کیا ہوئی ؟ (البدر مؤرخہ 11 ستمبر 1903 صفحہ 366) ایک اور موقعہ پر فرمایا احتیاطی نماز کیا ہوتی ہے۔جمعہ کے تو دو ہی فرض ہیں۔احتیاطی فرض کچھ چیز نہیں۔فرمایا : لدھیانہ میں ایک بار میاں شہاب الدین بڑے پکے موحد نے جمعہ کے بعد احتیاطی نماز پڑھی۔میں نے ناراض ہو کر کہا کہ یہ تم نے کیا کیا ؟ تم تو بڑے پکے موحد تھے۔اُس نے کہا کہ میں نے جمعہ کی احتیاطی نہیں پڑھی بلکہ میں نے مارکھانے کی احتیاطی پڑھی ہے۔(الحکم 10 راگست 1901 صفحہ 7)