فقہ المسیح — Page 162
فقه المسيح 162 نماز جمعہ اور عید تھا کہ اوائل میں اور بعض اوقات آخری ایام میں بھی جب حضرت صاحب کی طبیعت اچھی ہوتی تھی جمعہ بڑی مسجد میں ہوتا تھا جس کو عموما لوگ مسجد اقصیٰ کہتے ہیں اور مولوی عبد الکریم صاحب امام ہوتے تھے۔بعد میں جب حضرت کی طبیعت عموما ناساز رہتی تھی۔مولوی عبدالکریم صاحب حضرت صاحب کے لئے مسجد مبارک میں جمعہ پڑھاتے تھے اور بڑی مسجد میں حضرت مولوی نورالدین صاحب جمعہ پڑھاتے تھے۔مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات کے بعد مسجد مبارک میں مولوی محمد احسن صاحب اور ان کی غیر حاضری میں مولوی محمد سرور شاہ صاحب امام جمعہ ہوتے تھے اور بڑی مسجد میں حضرت مولوی نورالدین صاحب امام ہوتے تھے۔حضرت صاحب کی وفات تک یہی طریق رہا۔عید کی نماز میں عموما مولوی عبد الکریم صاحب اور ان کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب امام ہوتے تھے۔جنازہ کی نماز حضرت مسیح موعود جب آپ شریک نماز ہوں خود پڑھایا کرتے تھے۔قادیان میں دو جمعے اور اس کی وجہ (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 148) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری ایام میں نماز جمعہ دو جگہ ہوتی تھی۔ایک مسجد مبارک میں جس میں حضرت صاحب خود شریک ہوتے تھے اور امام صلوۃ مولوی سید محمد احسن صاحب یا مولوی سید سرور شاہ صاحب ہوتے تھے اور دوسرے مسجد اقصیٰ میں جس میں حضرت خلیفہ اول امام ہوتے تھے۔دو جمعوں کی وجہ یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود بوجہ طبیعت کی خرابی کے عموما مسجد اقصیٰ میں تشریف نہیں لے جا سکتے تھے اور مسجد مبارک چونکہ بہت تنگ تھی اس لئے اس میں سارے نمازی سمانہیں سکتے تھے۔لہذا دو جگہ جمعہ ہوتا تھا۔واقعہ مندرجہ روایت مذکورہ بالا ان دنوں کا ہے۔جبکہ مسجد مبارک میں توسیع کے لئے عمارت لگی ہوئی تھی۔ان ایام میں مسجد