فقہ المسیح — Page 136
فقه المسيح 136 نماز استخاره تک نہ پہنچے۔اگر چہ یہ دعا تمام عربی میں موجود ہے لیکن اگر یاد نہ ہو تو اپنی زبان میں کافی 66 ہے اور سفر کا نام لے لینا چاہئے کہ فلاں جگہ کے لئے سفر ہے۔“ استخارہ کا ایک آسان طریق مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 349-350) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مرزا دین محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب کے پاس میری آمد و رفت اچھی طرح ہو گئی اور میں آپ سے پڑھنے بھی لگ گیا۔تو حضور نے مجھے حکم دیا کہ ہر دو گھروں میں یعنی بخانہ مرز اغلام مرتضے صاحب اور بخانہ مرزا غلام محی الدین صاحب کہہ دیا کرو کہ سب لوگ ہر روز سوتے وقت استخارہ کر کے سویا کریں اور جو خواب آئے وہ صبح ان سے پوچھ لیا کرو اور مجھ سے بھی استخارہ کراتے تھے۔استخارہ یہ سکھایا تھا کہ سوتے ہوئے ” يَا خَبِیرُ أَخْبِرُنِي “ پڑھا کرو اور پڑھتے پڑھتے سو جایا کرو اور درمیان میں بات نہ کیا کرو۔میں صبح سب گھر والوں میں پھر کر خواہیں پوچھتا تھا اور حضرت صاحب کو آکر اطلاع دیتا تھا۔پھر حضرت صاحب سب کی تعبیر بتاتے اور میں سب کو جا کر اطلاع دیتا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا غلام مرتضے صاحب اور مرزا غلام محی الدین صاحب حقیقی بھائی تھے۔مرزا غلام مر تضیٰ صاحب حضرت صاحب کے والد تھے اور مرزا غلام محی الدین صاحب چچا تھے۔اس زمانہ میں بس انہی دو گھروں میں سارا خاندان تقسیم شدہ تھا۔اب مرزا غلام محی الدین صاحب کی اولاد میں سے صرف مرزا گل محمد ہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ استخارہ کی اصل مسنون دُعا تو لمبی ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ مرزا دین محمد صاحب کی سہولت کے لئے آپ نے انہیں یہ مختصر الفا ظ سکھا دیئے ہوں گے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 629،628)