فقہ المسیح — Page 135
فقه المسيح 135 نماز استخاره حضرت مسیح موعود کا طریق استخاره حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کے نام مکتوب میں حضرت مسیح موعود نے تحریر کیا: امید کہ بعد تین دن کے استخارہ مسنونہ جو سفر کے لئے ضروری ہے، اس طرف کا قصد فرماویں۔بغیر استخارہ کے کوئی سفر جائز نہیں۔ہمارا اس میں طریق یہ ہے کہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز کے لئے کھڑے ہو جائیں۔پہلی رکعت میں سورة قُلُ يايُّهَا الْكَافِرُونَ پڑھیں یعنی الـحـمـد تمام پڑھنے کے بعد ملالیں جیسا کہ سورۃ فاتحہ کے بعد دوسری سورۃ ملایا کرتے ہیں اور دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھ کر سورۃ اخلاص یعنی قُلُ هُوَ اللهُ اَحَدٌ ملا لیں اور پھر التحیات میں آخر میں اپنے سفر کے لئے دعا کریں کہ یا الہی ! میں تجھ سے کہ تو صاحب فضل اور خیر اور قدرت ہے، اس سفر کے لئے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو عواقب الامور کو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو ہر ایک امر پر قادر ہے اور میں قادر نہیں۔سو یا الہی ! اگر تیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ سفر سرا سر میرے لئے مبارک ہے، میری دنیا کے لئے میرے دین کیلئے اور میرے انجام امر کیلئے اور اس میں کوئی شر نہیں تو یہ سفر میرے لئے میسر کر دے اور پھر اس میں برکت ڈال دے اور ہر ایک شر سے بچا۔اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ سفر میرا میری دنیا یا میرے دین کے لئے مضر ہے اور اس میں کوئی مکروہ دہ امر ہے تو اس سے میرے دل کو پھیر دے اور اس سے مجھ کو پھیر دے آمین۔یہ دعا ہے جو کی جاتی ہے۔تین دن کرنے میں حکمت یہ ہے کہ تا بار بار کرنے سے اخلاص میسر آوے۔آج کل اکثر لوگ استخارہ سے لا پرواہ ہیں حالانکہ وہ ایسا ہی سکھایا گیا ہے جیسا کہ نماز سکھائی گئی ہے۔سو یہ اس عاجز کا طریق ہے کہ اگر چہ دس کوس کا سفر ہو تب بھی استخارہ کیا جاوے۔سفروں میں ہزاروں بلاؤں کا احتمال ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ استخارہ کے بعد متولی اور متکفل ہو جاتا ہے اور اس کے فرشتے اس کے نگہبان رہتے ہیں جب تک اپنی منزل