فقہ المسیح — Page 108
فقه المسيح حضرت اقدس نے فرمایا: 108 متفرق مسائل نماز ایسی صورت میں ضروری تھا کہ وہ دروازہ کھول کر چابی افسر کو دے دیتا ( یہ ہسپتال کا واقعہ ہے اس لئے فرمایا ) کیونکہ اگر اس کے التوا سے کسی آدمی کی جان چلی جاوے تو یہ سخت معصیت ہوگی۔احادیث میں آیا ہے کہ نماز میں چل کر دروازہ کھول دیا جاوے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ایسے ہی اگر لڑکے کو کسی خطرہ کا اندیشہ ہو یا کسی موذی جانور سے جونظر پڑتا ہو ضرر پہنچتا ہو تو لڑکے کو بچانا اور جانور کو مار دینا اس حال میں کہ نماز پڑھ رہا ہے گناہ نہیں ہے اور نماز فاسد نہیں ہوتی ، بلکہ بعضوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ گھوڑ اکھل گیا ہو تو اُسے باندھ دینا بھی مفسد نماز نہیں ہے کیونکہ وقت کے اندر نماز تو پھر بھی پڑھ سکتا ہے۔نوٹ :۔یا د رکھنا چاہئے کہ اشد ضرورتوں کے لئے نازک موقع پر یہ حکم ہے۔یہ نہیں کہ ہر ایک قسم کی رفع حاجت کو مقدم رکھ کر نماز کی پرواہ نہ کی جاوے اور اسے بازیچۂ طفلاں البدر 24 نومبر 1904 صفحہ 4) بنا دیا جاوے ورنہ نماز میں اشغال کی سخت ممانعت ہے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک دل اور نیت کو بخوبی جانتا ہے۔جوتا پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں ) ذکر تھا کہ امیر کا بل اجمیر کی خانقاہ میں بوٹ پہنے ہوئے چلا گیا تھا اور ہر جگہ بوٹ پہنے ہوئے نماز پڑھی اور اس بات کو خانقاہ کے کارندوں نے بُرا منایا۔حضرت نے فرمایا اس معاملہ میں امیر حق پر تھا جوتی پہنے ہوئے نماز پڑھنا شرعاً جائز ہے۔پان منہ میں رکھ کر نماز ادا کرنا 66 ( بدر 11 اپریل 1907 ء صفحہ 3) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے