فقہ المسیح — Page 74
فقه المسيح 74 ارکان نماز کسی مجبوری کے دیر میں مل سکا ہے تو کیا حرج ہے۔انسان کو چاہئے کہ رخصت پر عمل کرے ہاں جو شخص عمد استی کرتا ہے اور جماعت میں شامل ہونے میں دیر کرتا ہے تو اُس کی نما ز ہی فاسد ہے۔تشہد کے وقت انگلی اُٹھانا ( الحام 24 فروری 1901 صفحہ 9) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ خواجہ عبدالرحمن صاحب ساکن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھے میرے والد صاحب نے بتایا کہ جب حضور علیہ السلام نماز کے وقت تشہد میں بیٹھتے تو تشہد پڑھنے کی ابتدا ہی میں دائیں ہاتھ کی انگلیوں کا حلقہ بنا لیتے تھے اور صرف شہادت والی انگلی کھلی رکھتے تھے۔جو شہادت کے موقع پر اٹھاتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ خواجہ عبدالرحمن صاحب کے والد چونکہ اہل حدیث میں سے آئے تھے۔اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان باتوں کو غور کی نظر سے دیکھتے تھے۔مگر مجھ سے مکرم ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب نے بیان کیا ہے کہ ابتداء سے ہی ہاتھ کی انگلیوں کے بند کر لینے کا طریق انہیں یاد نہیں ہے۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ کبھی ایسا ہوا ہو۔واللهُ أَعْلَم۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 568،567) حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قعدہ میں بیٹھنے اور شہادت کی انگلی اٹھانے کے طریق کو یوں بیان کرتے ہیں : ( حضرت مسیح موعود ) دونوں سجدوں کے بعد اس طرح بیٹھ جاتے ہیں جیسا کہ دو سجدوں کے درمیان بیٹھا کرتے ہیں۔ہاں اس قدر فرق ہوتا ہے کہ پہلے سجدہ کے بعد جب بیٹھتے ہیں تو دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر اس طور پر رکھتے ہیں کہ دونوں ہاتھ کھلے ہوتے ہیں اور دونوں کی انگلیاں قبلہ کی طرف سیدھی ہوتی ہیں اور دوسری رکعت کے دونوں سجدوں کے بعد جب بیٹھتے ہیں تو اپنے بائیں ہاتھ کوتو ویسا ہی رکھتے ہیں اور دائیں ہاتھ کی تین انگلیوں کو ہتھیلی