فقہ المسیح — Page 75
فقه المسيح 75 ارکان نماز سے ملا لیتے ہیں اور درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ باندھ لیتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان کی انگلی کو سیدھا رکھتے ہیں اور پھر التحیات پڑھتے ہیں اور وہ یہ ہے التَّحِيَّاتُ لِلَّـهِ وَالصَّلَواتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ۔اَشْهَدُ أَن لَّا إِلهَ إِلَّا اللهُ (اور یہ کہتے ہوئے اس انگلی کو اُٹھا کر اشارہ کرتے ہیں اور پھر ویسی ہی رکھ دیتے ہیں جیسی کہ پہلے رکھی ہوئی تھی۔) پھر وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ پڑھتے ہیں۔رسالہ تعلیم الاسلام مطبوعہ قادیان ماہ جولائی 1906ء جلد اول نمبر اول صفحہ 178 179) تشہد میں انگلی اُٹھانے کی حکمت ایک شخص نے سوال کیا کہ التحیات کے وقت نماز میں انگشت سبابہ ( شہادت کی انگلی ) کیوں اُٹھاتے ہیں؟ فرمایا: لوگ زمانہ جاہلیت میں گالیوں کے واسطے یہ اُنگلی اُٹھایا کرتے تھے اس لئے اس کو ستا بہ کہتے ہیں یعنی گالی دینے والی۔خدا تعالیٰ نے عرب کی اصلاح فرمائی اور وہ عادت ہٹا کر فرمایا کہ خدا کو واحد لا شریک کہتے وقت یہ اُنگلی اُٹھایا کرو تا کہ اس سے وہ الزام اُٹھ جاوے۔ایسے ہی عرب کے لوگ پانچ وقت شراب پیتے تھے۔اس کے عوض میں پانچ وقت نما ز رکھی۔رکوع و سجود میں قرآنی دعا کرنا البدر 20 مارچ 1903 صفحہ 66) مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی نے سوال کیا کہ رکوع و سجود میں قرآنی آیت یا دعا کا پڑھنا کیسا ہے؟ فرمایا : سجدہ اور رکوع فروتنی کا وقت ہے اور خدا تعالیٰ کا کلام عظمت چاہتا ہے۔ماسوا اس کے حدیثوں سے کہیں ثابت نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رکوع یا سجود میں کوئی قرآنی دعا پڑھی ہو۔الحکم 24 را پریل 1903 ، صفحہ 11)