فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 611

فقہ المسیح — Page 73

فقه المسيح 73 ارکان نماز رکوع میں ملنے والے کی رکعت ہو جاتی ہے اس بات کا ذکر آیا کہ جو شخص جماعت کے اندر رکوع میں آکر شامل ہو، اس کی رکعت ہوتی ہے یا نہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دوسرے مولویوں کی رائے دریافت کی۔مختلف اسلامی فرقوں کے مذاہب اس امر کے متعلق بیان کئے گئے۔آخر حضرت صاحب نے فیصلہ دیا اور فرمایا: ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ لَا صَلوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ آدمی امام کے پیچھے ہو یا منفرد ہو، ہر حالت میں اس کو چاہئے کہ سورۃ فاتحہ پڑھے۔مگر ٹھہر ٹھہر کر پڑھے تا کہ مقتدی سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔یا ہر آیت کے بعد امام اتنا ٹھہر جائے کہ مقتدی بھی اس آیت کو پڑھ لے۔بہر حال مقتدی کو یہ موقعہ دینا چاہئے کہ وہ سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے کیونکہ وہ ام الکتاب ہے۔لیکن جو شخص باوجودا اپنی کوشش کے جو وہ نماز میں ملنے کے لئے کرتا ہے۔آخر رکوع میں آکر ملا ہے اور اس سے پہلے نہیں مل سکا تو اس کی رکعت ہوگئی۔اگر چہ اُس نے سورۃ فاتحہ اس میں نہیں پڑھی۔کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس نے رکوع کو پالیا اس کی رکعت ہوگئی۔مسائل دوطبقات کے ہوتے ہیں۔ایک جگہ تو حضرت رسول کریم نے فرمایا اور تاکید کی کہ نماز میں سورۃ فاتحہ ضرور پڑھیں۔وہ ام الکتاب ہے اور اصل نماز وہی ہے۔مگر جو شخص باو جودا اپنی کوشش کے اور اپنی طرف سے جلدی کرنے کے رکوع میں ہی آکر ملا ہے تو چونکہ دین کی بنا آسانی اور نرمی پر ہے۔اس واسطے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی رکعت ہوگئی۔وہ سورۃ فاتحہ کا ذکر نہیں ہے بلکہ دیر میں پہنچنے کے سبب رخصت پر عمل کرتا ہے۔میرا دل خدا نے ایسا بنایا ہے کہ ناجائز کام میں مجھے قبض ہو جاتی ہے اور میرا جی نہیں چاہتا کہ میں اُسے کروں اور یہ صاف ہے کہ جب نماز میں ایک آدمی نے تین حصوں کو پورا پا لیا اور ایک حصہ میں بسبب