فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 611

فقہ المسیح — Page 55

فقه المسيح 55 اذان ہوگا کہ وہ گانے کے وقت جو اونچی اور بلند آواز اُٹھاتے ہیں تو کان پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں تا کہ آواز کی کمزوری جاتی رہے اور قوت پیدا ہو جائے۔(تذکرۃ المہدی حصہ اول صفحہ 70) بچے کے کان میں اذان حکیم محمد عمر صاحب نے فیروز پور سے دریافت کیا کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو مسلمان اس کے کان میں اذان کہتے ہیں۔کیا یہ امر شریعت کے مطابق ہے یا صرف ایک رسم ہے؟ فرمایا :۔یہ امر حدیث سے ثابت ہے اور نیز اس وقت کے الفاظ کان میں پڑے ہوئے انسان کے اخلاق اور حالات پر ایک اثر رکھتے ہیں لہذا یہ رسم اچھی ہے اور جائز ہے۔“ کیا اذان جماعت کے لئے ضروری ہے سوال: کیا اذان جماعت کے لئے ضروری ہے؟ اس سوال کے جواب میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: ( بدر 28 مارچ 1907 ءصفحہ 4) ہاں اذان ہونی چاہئے لیکن اگر وہ لوگ جنہوں نے جماعت میں شامل ہونا ہے وہیں موجود ہوں تو اگر اذان نہ کہی جائے تو کچھ حرج نہیں۔لوگوں نے اس کے متعلق مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے مگر میں ایک دفعہ حضرت صاحب کے ہمراہ گورداسپور کو جارہا تھا راستہ میں نماز کا وقت آیا عرض کیا گیا کہ اذان کہی جائے؟ فرمایا کہ احباب تو جمع ہیں کیا ضرورت ہے۔اس لئے اگر ایسی صورت ہو تو نہ دی جائے ورنہ اذان دینا ضروری ہے کیونکہ اس سے کسی دوسرے کو بھی تحریک نماز ہوتی ہے۔روزنامه الفضل 19 جنوری 1922 صفحہ 8