فقہ المسیح — Page 56
فقه المسيح 56 60 ظاہری پاکیزگی کا اثر باطن پر وضو فرمایا :۔انسان کی دو حالتیں ہوتی ہیں جو شخص باطنی طہارت پر قائم ہونا چاہتا ہے وہ ظاہری پاکیزگی کا بھی لحاظ رکھے۔پھر ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة:322) یعنی جو لوگ باطنی اور ظاہری پاکیزگی کے طالب ہیں میں اُن کو دوست رکھتا ہوں۔ظاہری پاکیزگی باطنی طہارت کی ممد اور معاون ہے۔اگر انسان اسے ترک کر دے اور پاخانہ پھر کر بھی طہارت نہ کرے، تو باطنی پاکیزگی پاس بھی نہیں پھٹکتی۔پس یا درکھو کہ ظاہری پاکیزگی اندرونی طہارت کو مستلزم ہے۔اس لئے ہر مسلمان کے لئے لازم ہے کہ کم از کم جمعہ کے دن ضرور غسل کرے۔ہر نماز میں وضو کرے۔جماعت کھڑی ہو تو خوشبو لگائے۔عیدین اور جمعہ میں جو خوشبو لگانے کا حکم ہے وہ اسی بنا پر قائم ہے۔اصل وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے اجتماع کے وقت عفونت کا اندیشہ ہوتا ہے۔اس لئے غسل کرنے اور صاف کپڑے پہنے اور خوشبو لگانے سے سمیت ( زہر ) اور عفونت سے روک ہوگی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی میں یہ قانون مقرر کیا ہے ویسا ہی قانون مرنے کے بعد بھی رکھا ہے۔(رسالہ الانذار بحوالہ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 164) وضو کی حقیقت اور فلاسفی پادری فتح مسیح کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود نے فرمایا آپ کا یہ کہنا کہ وضو کرنے سے گناہ کیونکر دور ہو سکتے ہیں۔اے نادان ! الہی نوشتوں پر کیوں غور نہیں کرتا۔۔۔وضو کر نا تو صرف ہاتھ پیر اور منہ دھونا ہے۔اگر شریعت کا یہی مطلب وضو