فقہ المسیح — Page 54
فقه المسيح 54 اذان اذان اذان خدا کی طرف بلانے کا عمدہ طریق ہے اذان ہورہی تھی اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کیسی عمدہ شہادت ہے۔جب یہ ہوا میں گونجتی ہوئی دلوں تک پہنچتی ہے تو اس کا عجیب اثر پڑتا ہے۔دوسرے مذاہب کے جس قدر عبادت کے لئے بلانے کے طریق ہیں وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔انسانی آواز کا مقابلہ دوسری مصنوعی آواز میں کب کر سکتی ہیں۔الحکم 10 نومبر 1902 ءصفحہ 8،7) اذان کے وقت خاموش رہنا لازمی نہیں ایک شخص اپنا مضمون اشتہار در بارہ طاعون سُن رہا تھا اذان ہونے لگی تو چُپ ہو گیا۔اس پر حضرت مسیح موعود نے فرمایا وو پڑھتے جاؤ۔اذان کے وقت پڑھنا جائز ہے۔ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 296 ) اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں دینا ایک شخص نے عرض کیا کہ اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں کیوں دیتے ہیں؟ فرمایا اس میں حکمت یہ ہے کہ کان میں انگلی دینے سے آواز کو قوت ہو جاتی ہے۔پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اذان بغیر کانوں میں انگلی دیئے دیا کرتے تھے۔ایک روز حضرت بلال کی آواز میں آپ نے ضعف پا یا تو فر ما یا بلال کانوں میں انگلی دے کر اذان کہو سو بلال نے ایسا کیا تو آواز میں قوت پیدا ہوگئی اور ضعف جاتا رہا پھر یہ فعل حسب فرمودہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سنت ٹھہر گیا۔پھر فرمایا کہ اکثر گویوں اور کلامتوں کو دیکھا گیا