فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 611

فقہ المسیح — Page 43

فقه المسيح 43 پھر حکم نے کیا گناہ کیا کہ اسے ہر ایک رطب و یابس ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔وہابیوں اور چکڑالویوں کا افراط و تفریط علم فقہ اور فقہاء ( البدر 21 نومبر 1902 ء صفحہ 30 ) چکڑالوی کا ذکر آنے پر معلوم ہوا کہ اس نے نماز میں بھی کچھ ردو بدل کی ہے التحیات اور درود شریف کو نکال دیا ہے اور بھی بعض تبدیلیاں کی ہیں۔حضرت اقدس نے چکڑالوی کے فتنہ کو خطرناک قرار دیا اور آپ کی رحمت اور حمیت اسلامی نے تقاضا کیا کہ اس کے متعلق ایک اشتہار بطور محاکمہ کے لکھا جاوے جس میں یہ دکھایا جائے کہ مولوی محمد حسین نے اور اس نے افراط اور تفریط کی راہ اختیار کی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو صراط مستقیم پر رکھا ہے۔فرمایا:۔نبی ہمیشہ دو چیزیں لے کر آتے ہیں۔کتاب اور سنت۔ایک خدا کا کلام ہوتا ہے اور دوسرے سنت۔یعنی اس پر عمل کر کے دکھا دیتے ہیں۔دنیا کے کام بھی بغیر اس کے نہیں چل سکتے دقیق مسائل جو استاد بتاتا ہے پھر اس کو حل کر کے بھی دکھا دیتا ہے پس جیسے کلام اللہ یقینی ہے سنت بھی یقینی ہے۔خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں صراط مستقیم پر کھڑا کر رکھا ہے وہابیوں نے افراط کی ، قرآن پر حدیث کو قاضی ٹھہرایا اور قرآن کو اس کے آگے مستغیث کی طرح کھڑا کر دیا اور چکڑالوی نے تفریط کی کہ بالکل ہی حدیث کا انکار کر دیا۔اس سے فتنے کا اندیشہ ہے۔اس کی اصلاح ضروری ہے ہم کو خدا نے حکم ٹھہرایا ہے اس لئے ہم ایک اشتہار کے ذریعہ اس غلطی کو ظاہر کریں گے اور مضمون پیچھے لکھیں گے۔اول خویش بعد درویش جس راہ پر خدا تعالیٰ نے ہم کو چلایا ہے اس پر اگر غور کی جاوے تو ایک لذت آتی ہے قرآن شریف نے کیا ٹھیک فیصلہ فرمایا فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ اور دوسری جگہ فرمایا