فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 611

فقہ المسیح — Page 42

فقه المسيح 42 علم فقہ اور فقہاء اقدس کے دائیں ہاتھ میں بچپن میں ضرب آئی ہوئی ہے اور ہڈی کو صدمہ پہنچا ہوا ہے۔آپ نے بائیں ہاتھ سے پیالی لی تو اس پر غزنوی صاحبان نے فور ابلا وجہ دریافت کئے کہنا شروع کیا کہ یہ خلاف سنت ہے۔آپ نے ان کو سمجھایا کہ آداب اور روحانیت بھی سنت ہیں پھر ان کو اصل وجہ بتلائی گئی اس کے بعد ان لوگوں نے آپ پر یہ اعتراض کیا کہ آپ نے اپنی تصنیفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعریف کی ہے اس قدر نہ چاہیے تھی ہم تو ان کو اسی قدر مانتے ہیں۔جس قدر حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ یونس بن متی سے بھی زیادہ نہیں ہے۔جسمانی طور پر جس قدر ترقیات آج تک ہوئی ہیں کیا وہ پہلے زمانوں میں تھیں؟ اسی طرح روحانی ترقیات کا سلسلہ ہے کہ وہ ہوتے ہوتے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا۔خاتم النبین کے یہی معنے ہیں جب ان (وہابیوں) کی یہ حالت ہے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کونسی سچی محبت کر سکتے ہیں اور کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ فرمایا کہ میرا دل ان لوگوں سے کبھی راضی نہیں ہوا اور مجھے یہ خواہش کبھی نہیں ہوتی کہ مجھے وہابی کہا جاوے اور میرا نام کسی کتاب میں وہابی نہ نکلے گا۔میں ان کے مجلسوں میں بیٹھتا رہا ہوں۔ہمیشہ لفاظی کی بو آتی رہی ہے یہی معلوم ہوا کہ ان میں نرا چھلکا ہے مغز بالکل نہیں ہے۔مولوی محمد حسین نے خود حدیث کی نسبت اپنی اشاعت السنہ میں یہ بات لکھی ہے کہ ایک صاحب الہام یا اہل کشف صحیح حدیث کو ضعیف یا ضعیف کو صحیح قرار دے سکتا ہے کیونکہ وہ کشفی حالت میں آنحضرت ﷺ سے اس کی تصحیح کرالیتا ہے مگر تاہم میں نے یہ التزام رکھا ہے کہ میں اپنے کشوف یا الہامات پر تحمل نہیں کرتا جب تک قرآن اور سنت اور صحیح حدیث اس کے ساتھ نہ ہو۔محمد حسین سے پوچھا جائے کہ جب عبداللہ غزنوی احادیث میں اس طرح دخل دے سکتے تھے تو