فقہ المسیح — Page 44
فقه المسيح 44 علم فقہ اور فقہاء فَبَايَ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَ آيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ (الجاليه : 7) یہ ایک قسم کی پیشگوئی ہے جو ان وہابیوں کے متعلق ہے اور سنت کی نفی کرنے والوں کے لئے فرمایا إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : 32) احناف کا احوال ( البدر 28 نومبر۔5 دسمبر 1902 صفحہ 46)۔۔۔۔رہے حفی ، ان میں بدقسمتی سے اقوال مردودہ اور بدعات نے دخل پالیا ہے۔حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ تو اعلیٰ درجہ کے متقی تھے ،مگر اُن کے پیروؤں میں جب رُوحانیت نہ رہی تو انہوں نے اور بدعتوں کو داخل کر لیا اور تقلید میں انہوں نے یہاں تک غلو کیا کہ ان لوگوں کے اقوال کو جن کی عصمت کا قرآن دعویٰ نہیں کرتا ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال پر بھی فضیلت دے دی اور اپنے اغراض اور مقاصد کو مد نظر رکھ کر امام صاحب کے اقوال کی جس طرح چاہا تاویل کر لی۔لدھیانہ میں میں ایک دفعہ تھا تو نوابوں کے خاندان میں سے ایک شخص میرے پاس آیا اور باتوں ہی باتوں میں انہوں نے کہا کہ میں پکا حنفی ہوں اور یہ بھی کہا کہ میرے چچا صاحب کو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے بڑی حسن عقیدت تھی رض یہانتک کہ جب انہوں نے مالا بد منہ میں امام صاحب کا یہ قول دیکھا کہ صرف جو اور انگور اور دو اور یعنی چار قسم کی شراب حرام ہے، تو انہوں نے ولایت کی شرا میں منگوا کر اسی ہزار روپیہ کی شراب پی تا کہ امام صاحب کی بچی پیروی ہو جاوے۔استغفر الله ثم استغفر الله غرض اس قسم کی تاویلیں کر لیتے ہیں۔عام طور پر شکایت کی جاتی ہے کہ جس قسم کا فتویٰ کوئی چاہے ان سے لے لے۔حلالہ کا مسئلہ بھی انہوں نے ہی نکالا ہے کہ اگر کوئی عورت کو طلاق دے دے تو پھر جائز طور پر رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرے اور وہ پھر اس کو طلاق دے، حالانکہ قرآن شریف میں کہیں اس کا پتہ نہیں ملتا اور احادیث میں حلالہ کرنے والے پر لعنت آئی ہے۔(احکام 30 ستمبر 1901 ، صفحہ 3)