فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 80 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 80

یعنی مسئلہ طلاق کے بارہ میں جو احادیث مروی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں نہیں پڑتیں بلکہ قرآن و حدیث میں مذکور ترتیب کے مطابق طلاق دینے کی ہدایت کی پابندی ضروری ہے اور یہی مسلک زیادہ واضح اور صحیح ہے۔گویا احکام قرآنی اور ارشادات نبوی کے مطابق اٹھی تین طلاقیں دینا مشروع نہیں ہے لہذا فقہ احمدیہ کے نزدیک اگر تین طلاقیں ایک دفعہ ہی دے دی جائیں تو ایک رجعی طلاق منصور ہو گی۔ایک صحابی حضرت رکا نہ نے ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں جس کا اسے بعد میں احساس ہوا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ معاملہ پہنچا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اس نے طلاق کس طرح دی تھی۔اس نے بتایا کہ ایک ہی مجلس میں اس نے تین طلاقیں دے دی تھیں اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح تو ایک طلاق واقع ہوتی ہے تم رجوع کر لویہ یہ بات مستند روایات سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے سارے عہد خلافت اور حضرت عمر ض کے عہد خلافت کے ابتدائی دور میں ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک طلاق متصور ہوتی تھیں لیکن حضرت عمریض نے جب یہ محسوس فرمایا کہ شریعت کی دی گئی ایک سہولت کو بعض نادان وگوں نے مذاق بنا لیا ہے تو حکم صادر فرمایا کہ لوگوں کی اس جلد بازی پر گرفت کی جائے اور اس طرح کی دی ہوئی تین طلاقوں کو تین ہی متصور کیا جائے تاکہ لوگوں کو تنبیہہ ہو گئے مگر حضرت عمر کا یہ حکم تعزیر کارنگ رکھتا ہے اور اسے دائمی حکم قرار نہیں دیا جاسکتا۔علاوہ ازیں جن فقہاء نے ایک نشست میں تین طلاقوں کو تیں تسلیم کیا ہے وہ بھی ایسی طلاق کو طلاق بدعت کا نام دیتے ہیں گویا اس کا ناپسندیدہ ہونا ان کے نزدیک بھی مسلم ہے۔پس فقہ احمدیہ اس بدعت کو شرعی حیثیت نہیں دیتی ہے کہ ایک نشست میں اس طرح دی گئی تین طلاقوں کے بعد اگر کوئی شخص پشیمان ہو اور رجوع کرنا چاہے تو اس کے رجوع کے حق کو تسلیم کیا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- اگر تین طلاق ایک ہی وقت میں دی گئی ہوں تو اس خاوند کو یہ فائدہ دیا گیا ہے کہ وہ عدت کے گذرنے کے بعد بھی اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے کیونکہ یہ طلاق نا جائزہ له مسند احمد ۲۶۵ - دار قطنی من - نیل الاوطار ص صحیح مسلم مصری کتاب الطلاق باب طلاق الثلاث ما