فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 81
طلاق تھا اور اللہ و رسول کے فرمان کے موافق نہ دیا گیا تھا۔دراصل قرآن شریف میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ امر نہایت ہی ناگوار ہے کہ پرانے تعلقات والے خاوند اور بیوی آپس کے تعلقات کو چھوڑ کر الگ الگ ہو جائیں نہی وجہ ہے کہ اس نے طلاق کے واسطے بڑے بڑے شرائط لگائے ہیں۔وقفہ کے بعد تین طلاق کا دینا اور ان کا ایک ہی جگہ رہنا وغیرہ یہ امور سب اس واسطے ہیں کہ شاید کسی وقت ان کے دلی رنج دور ہو کہ آپس میں صلح ہو جائے۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے " الطَّلَاقُ مَرتُنِ» یعنی دو دفعہ کی طلاق ہونے کے بعد یا اسے اچھی طرح سے رکھ لیا جائے یا احسان سے جدا کر دیا جائے۔اگر اتنے لمبے عرصے میں ان کی آپس میں صلح نہیں ہوتی تو پھر ممکن نہیں کہ وہ اصلاح پذیر ہیں یا لے بہر حال فقہ احمدیہ کے نزدیک تین طلاقوں کا حق یا تو دور بھی اور ایک بائن طلاق کی صورت میں استعمال ہوگا یا تین بائن طلاقوں کی صورت میں جس کی شکل یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دے پھر عدت کے دوران رجوع کرے تو وہ ایک طلاق واقع ہو جائے گی اس کے بعد اگر وہ دوبار طلاق ریجی دے اور پھر عدت کے اندر رجوع کرے تو یہ اس کی طرف سے دوسری طلاق واقع شدہ شمار ہو جائے گی۔اب اس کے بعد جب تیسری مرتبہ طلاق دے گا تو وہ " طلاق بنہ ہو گی یعنی عدت کے اندر رجوع کرنے اور عدت کے بعد نکاح کرنے کا حق باقی نہیں رہے گا کیونکہ وہ اپنا طلاق دینے کا حق تین مرتبہ استعمال کر چکا ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق رجعی دے اور عدت کے دوران رجوع نہ کرے اس صورت میں عدت گزرنے کے بعد ایک طلاق بائن “ ہو گی لیے اب وہ رجوع تو نہیں کر سکتا مگر دوبارہ نیا نکاح کر سکتا ہے۔اس دوسرے نکاح کے بعد اسے طلاق کا حتی تین مرتبہ نہیں بلکہ صرف دو مرتبہ حاصل ہو گا لہذا اگر وہ اب طلاق دے اور رجوع نہ کرے اور عدت گذر جائے تو یہ اس کی طرف سے دوسری طلاق بائن ہوگی۔اس کے بعد وہ پھر باہمی رضامندی سے نکاح کر سکتے ہیں یہ ان کا تیسرا نکاح ہو گا جس کے نتیجہ میں صرف ایک باقی طلاق کا حق اسے ملے گا یعنی اگر وہ اطلاق الحكم جلد ۱۳ مورخه در اپریل ۶۱۹۰۳ ص که یا مثلاً قبل از رخصتانہ طلاق دے جو بائن ہوتی ہے۔