فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 79 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 79

مختلف اوقات میں ہی ہونی چاہئیے کیونکہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:۔الطَّلَاقُ مَرَّتَنِ فَإِمْسَاكُ بِمَعْرُونِ أَوْ تَسْرِيحُ بِإِحْسَانٍ له یعنی ایسی طلاق جس میں رجوع ہو سکے دو دفعہ ہو سکتی ہے پھر یا تو مناسب طور پر روک لینا ہو گا یا حسن سلوک کے ساتھ تیسری طلاق دے کر رخصت کر دینا ہو گا۔1 - اِس آیت سے پہلے ارشاد باری ہے :- وَالْمُطَلَقْتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلتَةَ قُرَوا ہے یعنی جن عورتوں کو طلاق مل جائے وہ تین بار حیض آنے تک اپنے آپ کو روک رکھیں جس کا درمان مطلب یہ ہے کہ آیت " الطَّلَاقُ مرتنِ من الطَّلَاقِ سے اشارہ اسی المُطَلَّقْتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَثَةَ قُرُو کی طرف ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایک ایسی عورت جس کو ایک طلاق دی گئی ہو اور وہ عدت گزار رہی ہو خاوند کو حق ہے کہ وہ عدت تین قروء یا تین ماہ کے اندر رجوع کرلے اور اگر عدت گزر جائے تو باہمی رضامندی سے نیا نکاح کرلے۔اس رجوع یا دوسرے نکاح کے بعد اگر وہ پھر طلاق دے دے تو خاوند کو ایک بار پھر عدت کے اندر رجوع کرنے اور عدت گزرنے کے بعد باہمی رضا مندی سے نیا نکاح کرنے کا حق ہوگا اس دوسرے رجوع یا تیسرے نکاح کے بعد اگر وہ پھر طلاق دے گا تو اس تیسری طلاق کے بعد عدت کے اندر نہ وہ رجوع کر سکے گا اور نہ عدت کے بعد باہمی رضامندی سے نیا نکاح کر سکے گا جب تک کہ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غيرہ اس کی شرط پوری نہ ہو۔آیت کریمہ الطلاق مرشنِ فَإِمْسَاكُ بِمَعْرُونِ أَوْ تَشْرِيمَ بِإِحْسَانٍ میں اسی انداز سے دی ہوئی تین طلاقوں کا ذکر ہے۔ވ ހ ب - آیت میں مرتین" کا لفظ دو الگ الگ موقعوں پر طلاق دینے کا متقاضی ہے سوال یہ ہے کہ وہ الگ الگ مواقع کون سے ہیں۔یہی مقام قابل غور ہے۔صاحب نیل الاوطار لکھتے ہیں :- الظَّاهِرَانَ الطَّلَاقَ المَشْرُوعَ لَا يَكُونُ بِالثَّلَاثِ دَفْعَةً بَلْ عَلَى التَّرْتِيْبِ الْمَذْكُورِ وَهذَا اظْهَرُ لے سورة البقره آیت ۲۳۰ سے سورۃ البقرہ آیت ۲۳۱ سورة البقره آیت ۲۲۹ که نیل الاوطار كتاب الطلاق باب ما جاء في طلاق البتة الخصم