فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 71 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 71

1 باب الطلاق بعض مذاہب میں نکاح لازمی طور پر عمر بھر کا بندھن ہوتا ہے اور کسی حالت میں بھی اسے ختم نہیں کیا جا سکتا خواہ اس کا قائم رہنا فریقین کے لئے کتنی بھی شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا باعث ہو لیکن اسلام ایسی سختی کا روادار نہیں جو تقاضہ فطرت کے منافی ہو۔اسلام میں نکاح کو اس کی بعض معاشرتی خصوصیات کی وجہ سے اگرچہ شرعی اور دینی تقدیس حاصل ہے لیکن اصلا چونکہ یہ ایک عمرانی معاہدہ ہے اور فریقین کی یکساں رضامندی سے عمل میں آتا ہے نیز فقہائے اسلام نے عبادات اور معاملات دونوں سے اس کا تعلق مانا ہے اس لئے اگر فریقین اس معاہدہ کو نبھانے کے قابل نہ رہیں یا آپس میں نباہ نہ کر سکیں اور وہ اس معاہدہ کو ختم کرنے پر مجبور ہو جائیں تو باوجود اس کے دینی تقدیس کے شریعت نے اس معاہدہ نکاح کوختم کرنے کی اجازت دی ہے کیونکہ اسلام نے انسانی فطرت کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا اور حتی الوسع انسان کو ایسے حالات سے بچانے کی کوشش کی ہے جو اس کے لئے ذہنی یا جسمانی اذیت کا باعث بنیں۔دوسری طرف چونکہ اس معاہدہ کو دینی تقدس بھی حاصل ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاہدہ کو ختم کرنے کو " ابغض العلال" کہا ہے اور اس میں جلد بازی سے منع کیا گیا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ نکاح حتی الامکان برقرار رہے اور صرف اسی صورت میں یہ تعلق ختم ہو جب حقیقتاً اس کے بغیر کوئی چارہ نظر نہ آئے۔قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں میاں بیوی کی علیحدگی سے قبل اصلاح کی کوشش کی غرض سے مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت ہے۔1 نشوز اور اس کی اصلاحی تدابیر نشور علیحدگی کا پیش خیمہ ہے۔اس بارہ میں اصلاحی تدابیر کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :-