فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 70 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 70

دفعہ نمبر ۳۱ متبنی اور نبی بنانے والا قانونا اور شترنا ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔تشریح:- اسلام سے قبل متدی بنانے کا رواج عام تھا اور اسے حقیقی بیٹے کی طرح جائیداد کا وارث قرار دیا جاتا تھا لیکن اسلامی احکامِ وراثت کے نزول کے بعد ہر قسم کے منہ بولے بیٹے یا دینی بھائی وراثت کے حقدار نہ رہے۔ہجرت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارہ کا تعلق قائم فرمایا تھا اور شروع شروع میں وہ وراثت میں بھی ایک دوسرے کے حقدار بن جاتے تھے لیکن احکام وراثت کے نزول کے بعد سے کوئی منہ بولا بھائی یا کوئی منہ بولا بیٹا شرعی وارثوں کی طرح وارث نہ رہا۔اسلام سے قبل منہ بولے بیٹے کے ساتھ مہری رشتے بھی اسی طرح حرام سمجھے جاتے تھے جیسے حقیقی بیٹے کے ساتھ۔مثلاً بیٹا بنانے والا متبشی کی بیوی سے طلاق یا بیوگی کی صورت میں ) نکاح نہیں کر سکتا تھا لیکن اسلام نے ایسے رواج کو بھی منسوخ فرما دیا۔چنانچہ الہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے :- فلما قضى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَجُنُكَهَا لِكَيْ لَا يَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَج في ازْوَاجِ اَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا، وَكَانَ اَهْرُ اللهِ مَفْعُولاهُ یعنی جب زید نے اس عورت کے بارہ میں اپنی خواہش پوری کر لی اور اسے طلاق دے دی تو ہم نے اس عورت کا تجھ سے بیاہ کر دیا تا کہ مومنوں کے دلوں میں اپنے لے پالکوں کی بیویوں سے نکاح کرنے کے متعلق ان کو طلاق مل جانے کی صورت میں کوئی خلش نہ رہے اور خدا کا فیصلہ ہر حال پورا ہو کر رہنا ہے۔سے سورۃ الاحزاب آیت ۳۸