فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 72 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 72

۷۲ والتي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُرُهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ل یعنی جن کی نافرمانی کا تمہیں خوف ہو تم انہیں نصیحت کرو اور انہیں خوابگا ہوں میں اکیلا چھوڑ دو اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ تلاش نہ کرو۔اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ نشوز کے تین درجے ہیں۔چنانچہ امام راغب فرماتے ہیں :- نُشُوزُ الْمَرْأَةِ بَعْضُهَا زَوْجَهَا وَرَفعُ نَفْسِهَا عَنْ طَاعَتِهِ وَعَيْنِهَا عَنْهُ إلى غيره - له یعنی عورت کا نشوز یہ ہے کہ وہ اپنے خاوند سے بغض رکھے اور اپنے آپ کو اس کی اطاعت سے بالا سمجھے اور اپنی آنکھیں دوسرے مرد کی طرف اُٹھائے۔نشوز کے ان مختلف درجات کے لحاظ سے آیت کریمہ میں یہ ہدایت ہے کہ 3 نشوز کی پہلی صورت میں عورت کو حکمت کے ساتھ سمجھایا جائے۔ب۔نشوز کی دوسری صورت میں ناراضگی کے طور پر اس سے کچھ مدت کے لئے ازدواجی تعلقات منقطع کر لئے جائیں۔ج۔اگر ان ذرائع سے اصلاح نہ ہوا اور نشوز کی تیسری صورت کا سامنا ہو تو مرد کو اجازت ہے کہ وہ بیوی کی مناسب جسمانی تادیب کرے۔اصلاح کی اِن مذکورہ بالا تدابیر کے ناکام ہونے کی صورت میں مرد اور عورت دونوں کے خاندانوں میں سے ایک ایک صاحب فہم و عدل نمائندہ مقرر کیا جائے یہ دونوں حالات کا جائزہ لینے کے بعد وجۂ فساد دور کرنے کی کوشش کریں چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :- وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا سورة النساء آیت ۳۵ ه المفردات للراغب زیر لفظ نشوز