فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 69
۶۹ حضرت عمر کے زمانہ میں اس قسم کا ایک بچہ پڑا ہوا ملا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ اس بچے کی پرورش کا خرچ بیت المال سے ادا ہو گا۔اسی طرح حضرت علی رضہ نے بھی ایسے بچے کے لئے یہی فیصلہ فرمایا ہے ہدایتہ میں ہے کہ اگر ایک شخص کسی بچے کو پڑا پائے اور اس کی پرورش قبول کرے تو کسی دوسرے شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر اس سے وہ بچہ نے لے لیکن اگر دوسرا شخص اس بچے کے نسب کا دعوی کرے اور کوئی اور شخص اس کے نسب کا مدعی نہ ہو اور حالات کے لحاظ سے یہ دعوای درست لگتا ہو اور قرائن اس کی تائید کرتے ہوں تو اس کے دعوام کو درست تسلیم کیا جائے گا۔صاحب ہدایہ کے نزدیک یہ دعوای راستحسانا صحیح ہوگا کیونکہ اس دعوای کی بناء پر و اچھے کو شفقت پدری حاصل ہو گی۔ب۔اسے نسب کا شرف حاصل ہو جائے گا جس سے وہ پہلے محروم تھا۔ج۔اور وہ ولد الزنا کی تہمت سے محفوظ ہو جائے گا۔یہ سب امور بچے کے فائدہ کے لئے ہیں اس لئے اس دعوی کو درست تسلیم کیا جائے گا۔و عوامی نسب کے بغیر محض پرورش کی بناء پر پرورش کنندہ اور لقیط ایک دوسرے کے وارث نہ ہونگے بعض اوقات بے اولاد لوگ جو بچے ہسپتالوں یا رفاہی اداروں سے حاصل کر لیتے ہیں یا قدرتی آفات وغیرہ کے نتیجہ میں جو بچے اپنے والدین سے بچھڑ جاتے ہیں اور کوئی ان کو لے کر پال لیتا ہے یہ سب لقیط کے حکم میں ہوں گے۔له مؤطا امام مالك كتاب الأقضيه باب القضاء فى المنبوذ ه و نصب المرايه جلد۳ ۴۶۵ ه هدايه كتاب اللقيط جلد ۲ ص 0<4