فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 68 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 68

Чл دفعہ نمبر ۲۹ اگر کوئی شخص اس بناء پر کسی بچے کا باپ ہونے سے انکار کرے کہ بیوی سے عدم مقاربت کی وجہ سے یا دیگر وجوہات کی بناء پر عقلاً وطبعا وہ بحیہ اس کا نہیں ہو سکتا تو باپ کا یہ دعوی ثابت ہونے پر بیچنے کے نسب کی نفی ہو جائے گی۔تشریح:- زیادہ سے زیادہ مدت حمل جیسا کہ دفعہ نمبر ۲۳ تشریح الف کے تحت بیان کیا جا چکا ہے قانون شرعی اور طبعی شواہد یعنی ماہر اطباء کی رائے کے مطابق قرار پائے گی۔اگر ان شواہد کے مطابق خاوند اپنی بیوی سے اتنا عرصہ الگ رہا ہو کہ بچہ کا اس کے نسب سے ہونا بظا ہر حالات ممکن نہ ہو تو اس صورت میں خاوند کے لئے لعان لازم نہیں ہو گا اور نسب کی نفی کے لئے صرف الگ رہنے کا ثبوت پیش کرنا کافی ہوگا۔دفعہ نمبر ۲ پرورش کی بناء پر کوئی شخص تقسیط کا ولی نہیں بن سکتا اور نہ ہی لقیط اور پرورش کنندہ ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں۔تشریح :- لقیط اس لاوارث بچے کو کہا جاتا ہے جوکسی عام جگہ پڑا ہوا کسی کو بل جائے اور وہ اسے ہے۔اُٹھا لے اور اس کی پرورش کی ذمہ داری قبول کرے۔ایسا لاوارث بچہ جس کی پرورش کی ذمہ داری کوئی شخص قبول نہ کرے اس کی پرورش کی ذمہ داری حکومت اور بیت المال پر ہو گی۔