فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 56
AY دفعہ نمبر ۱۹ نکاح باطل ایسا نکاح ہے جس کی کوئی شرعی بنیاد نہ ہو جیسے کسی دوسرے کی منکوحہ سے نکاح یا محرمات ابدی سے نکاح۔تشریح جو نکاح نصوص قطعیہ کے خلاف ہو وہ باطل ہے۔فقہاء نے لفظ باطل اور لفظ فاسد کے استعمال میں بعض جگہ غلطی کھائی ہے اور فاسد نکاح کے لئے باطل اور نکاح باطل کے لئے فاسد کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔یہ غلطی اس وجہ سے لگی ہے کہ بعض اوقات ایک نکاح بظا ہر باطل ہوتا ہے لیکن اس پر جو اثرات واحکام مرتب ہوتے ہیں وہ فاسد نکاح کے ہوتے ہیں مثلاً ایک شخص غلطی اور لا علمی میں معدہ غیر سے نکاح کر لیتا ہے یا لا علمی میں محرمات ابدی میں سے کسی سے نکاح کر لیتا ہے۔بظاہر تو یہ نکاح باطل کی تعریف میں آتا ہے لیکن اثرات اور نتائج کے لحاظ سے اس پر نکاح فاسد کے احکام مرتب ہوتے ہیں۔یہ امر سمجھ لینا چاہیئے کہ ان صورتوں میں جو نکاح فاسد کے بعض احکام مرتب ہوتے ہیں وہ نکاح کے احکام نہیں بلکہ وٹی اور جماع کے احکام ہیں اور یہ احکام فقہاء نے صرف اس لئے مرتب کئے ہیں تاکہ اس جماع کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی اولاد کو ولد الحرام ہونے کے حکم سے بچایا جاسکے کیونکہ شعبہ فی المحل یا شبہ فی الفعل کی وجہ سے یہ زنا نہیں ہے لیکن اس قسم کے نکاح کے بعد مرد اور عورت کے درمیان اگر تعلقات زوجیت قائم نہیں ہوئے تو اس صورت میں سب کے نزدیک اس پر نکاح باطل کے احکام لاگو ہوں گے یعنی ہر دو میں في الفور تفریق کرا دی جائے گی مرد کے لئے وطئی کرنا حرام ہوگا اور عورت کے لئے اس مرد کو مباشرت کا موقع دینا حرام ہوگا۔غرضیکہ ایک ہی فعل پر دو قسم کے احکام نافذ ہونے کی وجہ سے فقہاء نے فاسد" اور "باطل" کے الفاظ استعمال کرنے میں تسامح سے کام لیا ہے تاہم بنیادی اصول یہی ہے کہ جو نکاح نصوص قطعیہ کے خلاف ہو وہ باطل ہے اور جس میں نکاح صحیح کی شرائط کے لحاظ سے کوئی ایسا ستم ہو جس کا لبسہولت ازالہ ہو سکتا ہو وہ نکاح فاسد ہے۔