فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 55 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 55

۵۵ دفعہ نمبر ۱۸ اگر نکاح فاسد کے فسخ ہونے سے پہلے فریقین میں ازدواجی تعلق قائم ہوگیا ہو تو حرمت مصاہرت واقع ہو گی اولاد ثابت النسب ہوگی اور مہر مشکل یا مهر مسمی میں رقم ی سے کم تر ر تم خاوند کے قتہ قابل ادا ہوگی اور بصورت تفریق عورت کے لئے عدت گزارنا لازمی ہو گا۔تشریح نکاح فاسد کے نتیجہ میں اگر ازدواجی تعلقات قائم نہ ہوئے ہوں تو جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے علم ہونے پر نکاح فسخ کر دیا جائے گا اور فریقین میں تفریق کروا دی جائے گی۔اس صورت میں اس نکاح کے کوئی اثرات مرتب نہ ہوں گے۔لیکن اگر ازدواجی تعلقات قائم ہوگئے ہوں تو مصاہرت لازم آئے گی یعنی بیوی کی ماں، بیوی کی بیٹی ، سب حرام ہوں گی۔اسی طرح یہ عورت اپنے اس خاوند کے والد سے نکاح نہیں کر سکے گی اور نہ اس کے بیٹے سے۔شریعت کے تمام احکام میں چونکہ سہولت مد نظر ہے اس لئے گو نکاح فاسد ہے لیکن اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی اولاد ثابت النسب ہوگی شریعت حتی الامکان بچے کو نا جائز یا حرام کے حکم سے بچانا چاہتی ہے اس لئے جہاں کہیں تھوڑا سا سہارا بھی ملتا ہو خواہ شبہ فی الفعل ہو یا شبه في العقد وہاں اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی اولاد کو ولد الحرام کی تہمت سے بچانا مد نظر رکھا گیا ہے۔نکاح فاسد کے نتیجہ میں حق مہر بھی ایسی صورت میں واجب الادا ہے جب تعلقات ازدواجی قائم ہو چکے ہوں ورنہ نہیں البتہ مہر مثل اور مہر سمتی میں سے جو کم تر ہو گا وہ واجب الادا ہو گا۔اسی طرح سے گو نکاح فاسد ہے لیکن اگر ازدواجی تعلقات قائم ہو گئے ہوں تو بصورت تفریق عورت پر عدت لازم آئے گی تا کہ استقرار حمل کے بارہ میں تسلی کر لینے کا موقع مل سکے۔