فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 53
سرك ب :۔بیوی نان و نفقہ کی حقدار ہوتی ہے اور خاوند نان و نفقہ ادا کر نے کا ذمہ دار ہے لیے ج :۔بیوی کو خاوند کے گھر میں رہنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔اس کے مقابل پر بیوی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خاوند کے ازدواجی حقوق ادا کرے۔اس پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ خاوند کی وفادار اور معروف طریق پر اس کی اطاعت گزار ہو۔تیسرا فرض اس پر یہ عائد ہوتا ہے کہ وہ طلاق یا خاوند کی وفات کی صورت میں عدت گزارے۔خاوند کے حقوق و فرائض ر :- خاوند نکاح کے نتیجہ میں بیوی سے ازدواجی تعلقات یعنی مقاربت کا حقدار ہوتا ہے۔اسی طرح گھریلو کام کاج اور بچوں کی پرورش کے سلسلہ میں بیوی سے مدد لینے کا حق بھی خاوند کو حاصل ہوتا ہے۔ب : خاوند پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بیوی کا حق مقاربت اور نان و نفقہ ادا کرے اور اس کی رہائش کا انتظام کرے۔نفقہ کے بارہ میں خاوند کی ذمہ داری ملتی ہے بیوی کے صا- جائیداد یا صاحب ثروت ہونے سے خاوند کی یہ ذمہ داری ساقط نہیں ہوتی ہے ہے۔ج : خاوند بیوی کو حق مہر ادا کرنے کا ذمہ دار ہے سیکھ 1۔ایک سے زائد بیویوں کی صورت میں خاوند ان کے ساتھ مساوی سلوک کرنے کا پابند تفصیل کے لئے دیکھیں دفعہ نمبر ۴۴ " " دفعہ نمبر ۹